کریتی سینن کا بالی وڈ میں صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک کا انکشاف

بالی وڈ اداکارہ کریتی سینن نے فلم انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک سے متعلق انکشاف کیا ہے۔

حال ہی میں کریتی سینن نے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے فلم انڈسٹری میں صنفی امتیاز کے اپنے تجربے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اکثر مرد اداکاروں کے مقابلے میں خواتین اداکاروں کو مختلف پیمانوں سے پرکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے کیرئیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں ماڈلنگ، انجینئرنگ کالج اور فلم انڈسٹری سمیت جن بھی شعبوں سے وابستہ رہی، بالی وڈ ہی وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

اداکارہ کا اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب بالی وڈ میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تو خواتین کے لیے دستیاب مواقع آج کی نسبت بہت محدود تھے، اس وقت بہت سی فلمیں مرد مرکزی کرداروں کے گرد گھومتی تھیں اور خواتین کے کردار اکثر صرف رومانوی دلچسپی کے عنصر کے طور پر لکھے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں بتدریج بہتری آئی ہے اور اب خواتین کے لیے بہتر انداز میں کردار لکھے جا رہے ہیں، لیکن صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک اب بھی مختلف طریقوں سے موجود ہے۔

اپنے انٹرویو میں کریتی سینن نے فلمی سیٹ پر مرد اور خواتین اداکاروں کے لیے اپنائے جانے والے مختلف معیارات کے بارے میں بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ وہ اپنے کرداروں اور فلمی سینز کے بارے میں سوالات پوچھنے کے لیے جانی جاتی ہیں، لیکن جب کوئی خاتون ایسا کرتی ہے تو اکثر اسے ‘مشکل مزاج’ یا ‘بہت زیادہ سوالات پوچھنے والی’ سمجھا جاتا ہے لیکن اگر یہ ہی سوال کوئی مرد اداکار کرے تو اس کی بات کو سنا جاتا ہے اور سیٹ پر مردوں کو زیادہ سہولیات دی جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں