سبز الائچی کے بے شمار ایسے فائدے جان لیں جو بہت سی بیماریوں سے بچاسکتے ہیں

 سبز الائچی پاک و ہند سمیت ایشیائی ممالک میں گھروں میں عام مستعمل ہے اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ ریاست میسور کی الائچی بہترین ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں یہ پائی جاتی ہے۔ اردو اور ہندی میں اسے چھوٹی الائچی یاسبز الائچی اور انگریزی میں کارڈاموم Cardamom کہتے ہیں۔ چھوٹی سی الائچی بڑے بڑے فائدے رکھتی ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

نظام انہضام کیلئے:

نظام انہضام کی خرابی وبد ہضمی سے ہونیوالی گیس اور اس کی وجہ سے سردرد کیلئے سبز چائے میں الائچی ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد سونف اور الائچی کے ہموزن مرکب کا استعمال کھانے کو ہضم کرنے میں بے حد مدد گار ہے۔ مقوی معدہ ہے یہ تیزابیت کو ختم کرتی ہے۔ خوابیدگی کے خمار کو کم کرتی ہے جبکہ معدے میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہوئے ریاح پیدا ہونے سے روکتی ہے۔

تیزابیت معدہ کیلئے:

الائچی معدے میں موجود لعابی جھلی کو مضبوط بناتی ہے، اس لئے یہ تیزابیت کیلئے اکسیر ہے۔ اس کو چبانے سے منہ میں بننے والے لعاب میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو خوراک کو ہضم کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ السر کی بیشتر اقسام میں بھی فائدہ مند ہے۔ تبخیر اور السر میں اس کا درج ذیل مرکب انتہائی مفید ہے جو ہائی بلڈ پریشر والے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

سفوف تبخیر:

سبز الائچی،سونف،طباشیر کبود،کشنیزہموزن سفوف بنالیں اور ایک چمچ چائے والا ہر کھانے کے بعداستعمال کریں۔

موٹاپا اورپیٹ کم کرنے کیلئے:

بڑھا ہوا پیٹ اکثر لوگوں کیلئے شرمندگی اور بہت سی بیماریوں کاباعث بنتاہے۔بڑھے ہوئے پیٹ کے ساتھ انسان خود کوآرام دہ محسوس نہیں کرتا۔موٹاپا اورپیٹ کم کرنے کیلئے بہت سی ورزشیں بھی ہیں لیکن ہرکسی کیلئے جِم جانایاورزش کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوتا۔اسی لئے اگر نیچے دیئے گئے نسخہ کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو نہ صرف پیٹ کم ہو گا بلکہ تمام جسم بھی سمارٹ ہو گا۔

ھوالشافی :

چھوٹی الائچی ،سونٹھ ،پودینہ ،کلونجی،دیسی اجوائن،زیرہ سیاہ،سونف ہر ایک 20گرام یہ تمام اجزا پیس کررکھ لیں۔
کھانے کے بعد آدھا چمچ صبح وشام قہوہ کے ساتھ لیں۔اس سے اضافی فیٹ ختم ہوگا۔اور بڑھاہوا پیٹ خود بخود اندر ہوجائے گا۔سونف سے آپکوباربار بھوک نہیں لگے گی۔سونٹھ آپکاکھاناہضم کرے گی۔کالازیرہ،اجوائن اور پودینہ اضافی چربی کو ختم کرنے میں مدد کریں گے۔ اورکلونجی میں تو ہرمرض کی شفا ہے۔

ہیضہ کیلئے :

ہیضہ اور اسکی وجہ سے دست آنے کی صورت میں الائچی کا عرق یا قہوہ پلانا بے حد مفید ہے۔

اسہال کیلئے :

الائچی خورد دافع اسہال اور کمزوری امعا میں بے حد مفید ہے۔ اس کیلئے الائچی خورد تین گرام طباشیر تین گرام مصطگی رومی تین گرام اور چینی نوگرام(شوگر والے بغیر چینی کے) ان تمام ادویہ کوپیس کر سفوف تیارکریں اور آدھا چمچہ چائے والا ہمراہ پانی دن میں دوتاتین بار استعمال کرنا بے حد مفید ہے۔

سانس کی بدبوکیلئے:

اگر سانس کی بدبو ہزار کوشش کے باوجود بھی ختم نہیں ہوتی تو الائچی استعمال کریں یہ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی حامل ہے اور اس کی تیز خوشبو منہ کی بدبو دور کر دیتی ہے۔ یہ نظام انہضام کو بہتر بناتی ہے اور منہ کی بدبو کی ایک بڑی وجہ نظام انہضام کی خرابی ہوتی ہے۔

اورل ڈیزیز کیلئے:

سبز الائچی اورل ڈیزیزمنہ کے السر ‘منہ کے چھالے‘خناق‘ٹانسلز وغیرہ میں کھانے اور لگانے کی ادویات میں مستعمل ہے۔ ایک معروف نسخہ درج ذیل ہے۔

ھوالشافی:

دانہ الائچی خورد‘طباشیر اصلی ہر ایک 10 گرام اور مصری کوزہ 30 گرام ‘تمام اجزاء انتہائی باریک پیس لیںاورکپڑچھان کرکے رکھ لیں دن میں تین چار بار منہ میں چھڑکیں۔خصوصاً شیر خوار بچوں کیلئے مفید ہے بڑے بھی آدھا چمچ صبح وشام کھانے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔(شوگر کے مریض مصری کوزہ کے بغیرنسخہ تیار کریں)

پسینے کی بدبو کیلئے:

سبزالائچی کا سفوف آدھا چمچ صبح نہار منہ مسلسل استعمال کرنے سے پسینے کی بدبو کو خوشبو میں بدل دیتی ہے۔

نظام تنفس کیلئے:

الائچی پھیپھڑوں میں خون کے دورانیہ کو بڑھا کر نزلہ، زکام، کھانسی، دمہ کے امراض میں آرام پہنچاتی ہے جبکہ بلغم کو باہر نکالنے کیلئے بھی انتہائی مدد گار ہے۔

ڈپریشن‘سٹریس و دیگر دماغی امراض:

سبز الائچی Antidepressantصلاحیت رکھتی ہے اس کے آدھا چمچ پاؤڈر کو دن میں دو تین بار کھانے سے ڈیپریشن‘اسٹریس اور دیگر دماغی و نفسیاتی امراض میں فائدہ ملتاہے۔

بلڈپریشرو امراض قلب کیلئے:

چونکہ الائچی میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلشیم کے مرکبات سے بھرپور ہوتی ہے اس لئے یہ خون کے الٹرولائٹس کیلئے صحت کا خزانہ ہے۔ یہ اجزاء دوران خون کو بہتر بناتے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔سبز الائچی خفقان اور دیگر امراض قلب میں بھروسے کی چیز ہے۔

خون کی کمی کیلئے:

الائچی کے بنیادی اجزامیں آئرن، کاپر اور وٹامنز سی کے علاوہ ایسے وٹامنز موجود ہوتے ہیں کہ جو خون کے سرخ جرثوموں کی افزائش کیلئے بے حد مدد گار ہوتے ہیں اور اینیما کی بیماری کیخلاف ڈھال ثابت ہوتے ہیں۔

زہریلے مادوں کا تدارک یعنی ڈی ٹاکسنگ:

الائچی اپنے ڈی ٹاکسن کے عمل سے جسم کے زہریلے اور فاسد مادوں کو ختم کرتی ہے، انہیں جسم سے خارج کرتی ہے،متعدد امراض حتیٰ کہ کینسر جیسے موذی مرض سے بھی بچاتی ہے۔سبز الائچی بہترین اینٹی کینسر‘اینٹی آکسیڈینٹ ‘اورAnti-inflammatory ہے۔اس میں موجود وولاٹائل ایسینشل آئلزبیکٹیریا‘وائرسزاور فنگس کے فروغ کو روکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں