سانحہ گل پلازہ: انتظامی غفلت چالان میں شامل نہیں، پولیس چالان اعتراض لگاکر پھر واپس

کراچی: پراسیکیوشن نے سانحہ گل پلازہ پر ایک بار پھر پولیس چالان کو اعتراض لگا کر واپس کردیا۔

پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق پولیس چالان پر پراسیکیوشن کے اعتراضات برقرار ہیں اور پولیس نے اعتراضات مکمل طور پر دور نہیں کیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ چالان کے ساتھ منسلک نہیں کی، گل پلازہ کے ڈیزائن میں تبدیلی سمیت انتظامی غفلت کی تفصیلات شامل نہیں کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن کی جانب سے پولیس کو اعتراضات دور کرکے چالان دوبارہ جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورت میں واقعے کو حادثہ قرار دے دیا گیا تھا۔

جیو نیوز کے مطابق کراچی پولیس نے سانحہ گل پلازہ مقدمےکے چالان کے ساتھ تحقیقاتی رپورٹ پراسیکیوشن کو جمع کرا دی تاہم ذرائع کا بتانا ہے کہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ چالان کا حصہ نہیں بنائی گئی۔

گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فارنزک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ آگ حادثاتی تھی تاہم پولیس نے مقدمے میں دکاندار نعمت اللہ اس کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو ملزم نامزد کیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مقدمے میں گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری محمد امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے تمام ملزمان کو مفرور قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں