Constitution

سقوط آئین؟


تحریر:- حامد میر

بہت سے دوست میری امید پسندی سے تنگ آ چکے ہیں۔ پہلے وہ سوال پوچھتے تھے، اب دوست سوال نہیں پوچھتے۔ نفرتوں کی یلغار اور وسوسوں کے طوفان نے کچھ دوستوں کو ایک خیالی نتیجے تک پہنچا دیا ہے۔

پرسوں ایک دوست ڈاکٹر اقبال مجھے ڈھونڈتے ہوئے آئے اور صرف یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ حالات 1971ء سے بدتر ہو چکے ہیں اور ہم ایک اور سقوط ڈھاکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ آج کے پاکستان اور 1971ء کے پاکستان میں کیا مماثلت ہے؟ سقوط ڈھاکہ ایک فوجی آپریشن کا نتیجہ تھا لیکن آج تو کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ پاکستان پر جنرل یحییٰ خان کی نہیں شہباز شریف کی حکومت ہے تو پھر ہم کون سے سقوط کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

1971ء میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان آمنے سامنے تھے۔ 2023ء میں شہباز شریف اور عمران خان آمنے سامنے ہیں۔ دونوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ کیا جاتی عمرا اور زمان پارک آمنے سامنے ہیں یا پنجاب کے مقابلے پر پنجاب آن کھڑا ہوا ہے؟ 1971ء میں ہم بنگالیوں کو غدار اور ملک دشمن قرار دے رہے تھے آج ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کیسے ممکن ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پچھتر سال تک بنگالی، بلوچ، پختون اور سندھی غدار قرار دیئے جاتے رہے۔

حسین شہید سہروردی، نواب نوروز خان زرکزئی، باچاخان، الطاف حسین اور محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت بہت سے سیاستدانوں اور صحافیوں پر انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون 24اے کا استعمال ہوتا رہا لیکن پاکستان کی عدالتوں کو انسانی حقوق یاد نہیں آئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جاوید ہاشمی اور اخترمینگل کیخلاف 24اے کے تحت مقدمات درج ہوئے تو ہم نے مطالبہ شروع کیا کہ اس سیاہ قانون کو ختم کیا جائے کیونکہ قائد اعظمؓ نے بھی اس قانون کی مخالفت کی تھی۔ عمران خان کے دور حکومت میں اس سیاہ قانون کے تحت قومی اسمبلی کے ارکان پر مقدمات قائم ہوئے۔ 2020ء میں رضا ربانی نے سینیٹ میں اس قانون کے خاتمےکا بل پیش کیا۔

عمران خان کی حکومت نے بل کی مخالفت کی لیکن بل منظور کرکے قومی اسمبلی کو بھیج دیا گیا۔ قومی اسمبلی نے بل کو منظور نہیں کیا۔ شہباز شریف حکومت میں آئے تو ایک دفعہ پھر سیاستدانوں اور صحافیوں کے خلاف اس نوآبادیاتی قانون کا استعمال شروع ہوا۔ اس مرتبہ 24اے کا زیادہ استعمال وسطی پنجاب والوں کے خلاف ہوا۔ جیسے ہی پنجاب نے پنجاب کو غدار کہنا شروع کیا تو لاہور ہائی کورٹ کو احساس ہوا کہ 24اے آئین پاکستان کی روح کے خلاف ہے اور گزشتہ ہفتے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا گیا جس پر سب سے زیادہ خوشی کا اظہار تحریک انصاف والوں نے کیا۔ 24اے کا خاتمہ مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہے لیکن یہ کرن اس وقت ابھری جب اقتدار کی جنگ میں جاتی عمرا اور زمان پارک والے آپس میں دست و گریبان ہوئے۔

کسی کو اچھا لگے یا برا، سچ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی لڑائی میں بھی پنجاب کے مقابلے پر پنجاب کھڑا نظر آتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔ بائیکاٹ کی تجویز سب سے پہلے لندن میں موجود نواز شریف نے پیش کی۔ انہوں نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکن بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔نواز شریف اور بندیال دونوں پنجاب سے ہیں۔ نواز شریف کی پارٹی کے خیال میں جسٹس بندیال اور ان کیساتھ بنچ میں موجود دیگر جج دراصل عمران خان کے حامی ہیں حالانکہ ان جج صاحبان نے گزشتہ سال وہ فیصلہ دیا تھا جس کے نتیجے میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا راستہ ہموار ہوا ۔ بہرحال جسٹس بندیال اور انکے دو ساتھی ججوں کا بنچ بہت متنازعہ ہو چکا ہے۔

ابتداء میں یہ نو رکنی بنچ تھا لیکن سکڑتا ہوا تین پر آگیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن پہلے بنچ سے علیحدہ ہوئے پھر دوبارہ بنچ میں شامل ہوگئے اور ان کی شمولیت نے اس بنچ کی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا تاہم وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا آمنے سامنے آنا جمہوریت کیلئے خطرات میں اضافہ کریگا۔ 1997ء میں حکومت اور سپریم کورٹ آمنے سامنے آئے تو نواز شریف وزیراعظم تھے۔

2023ء میں یہ ناخوشگوار تاریخ پھر سے دہرائی جا رہی ہے تو شہباز شریف وزیراعظم ہیں لیکن ججوں میں اختلافات کی وجہ شہباز شریف نہیں ہیں۔ یہ اختلافات 2019ء میں پیدا ہوئے جب عمران خان کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ایک ریفرنس صدر عارف علوی کو بھجوایا۔ اس ریفرنس کے پیچھے جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ جھوٹے پر خدا کی لعنت۔ جنرل باجوہ نے کاشف عباسی، محمد مالک، ندیم ملک اور میرے سامنے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف گفتگو کی تو میں نے انہیں خبردار کیا کہ قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیس بنا کر آپ عمران خان کی حکومت کو مشکلات سے دو چار کرینگے لیکن جنرل باجوہ نے بڑی رعونت سے میری رائے مسترد کردی۔ ابھی ریفرنس دائر نہیں ہوا تھا لیکن میں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ہونے والی سازش پر ’’جنگ‘‘ میں کالم لکھ دیا۔ اس کالم کے بعد عمران خان نے مجھے بلایا اور یقین دلایا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کوئی ریفرنس نہیں بھجوائیں گے لیکن چند دن کے بعد انہوں نے باجوہ کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے اور سازش کا حصہ بن گئے۔

اس سازش نے سپریم کورٹ کے ججوں میں تقسیم پیدا کی جو آج ایک بحران بن چکی ہے۔ جج صاحبان ایک دوسرے کیساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں اور ان میں نفرتوں کے بیج بونے والے باجوہ صاحب کا کمال دیکھئے کہ وہ نواز شریف کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے کہ باجوہ نے کس کے ذریعے نواز شریف کے پیچھے پناہ حاصل کی ہے لیکن یہ قصہ پھر کبھی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کو مکمل تباہی سے بچاناہے۔

شہباز شریف کا مطالبہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر چیف جسٹس فل کورٹ بنائیں۔ عمران خان کو فل کورٹ پر کوئی اعتراض نہیں لیکن چیف جسٹس فل کورٹ بنانے پر راضی نہیں۔ وفاقی حکومت نے ایک قانون کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کیا ہے جس پر وہ خوش نہیں ہونگے لیکن چیف جسٹس کو اپنا ادارہ بچانے کیلئے اپنی انا کی قربانی دینی ہوگی۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی طرف سے چیف جسٹس اور ان کے دو ساتھی ججوں کیخلاف ریفرنس کی دھمکی غیردانش مندانہ ہے۔ اس وقت دھمکیوں کی نہیں افہام و تفہیم اور تدبر کی ضرورت ہے۔ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ عمر عطا بندیال کی جگہ قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بن گئے تو وفاقی حکومت کی موجیں لگ جائیں گی تو وہ یہ غلط فہمی دل سے نکال دے۔ قاضی فائز عیسیٰ آئین کے بنیادی تقاضوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ 1971ء میں آئین ہوتا تو شاید سقوط ڈھاکہ نہ ہوتا۔ آج پاکستان بچانا ہے تو پھر آئین بھی بچانا ہوگا۔ خدانخواستہ سقوط آئین کے بعد ہم سقوط ڈھاکہ سے بڑے سانحے سے دو چار ہو سکتے ہیں۔


تحریر:- حامد میر

اپنا تبصرہ بھیجیں