آئی ایم ایف سے چھٹکارا کیسے؟

پاکستان کو اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامناہے، سری لنکا کے بعد ہمارے بھی ڈیفالٹ ہونے کی خبروں نے عوام، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کو کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔

مگر اس مرحلے پر ملک کو بہتر پوزیشن میں لانے کے لئے جس حکمتِ عملی اور اتحاد کی ضرورت ہے وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی میں نہ مانوں کی پالیسی کی وجہ سے ممکن نہیں ہو پارہا۔

پی پی کی حکومت نے 2008-2013 تک جب کہ نواز شریف نے بھی اپنے 5سالہ دور حکومت میں 15.15ارب ڈالر کے قرض لئے جبکہ عمران کے دور حکومت میں ریکارڈ 43ارب ڈالر قرضہ لے کر ملکی معیشت کو تباہ کردیا گیا۔ اس سے قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ڈیڑھ کھرب ڈالرز کا نقصان ہوا، جب کہ 80ہزار سے زائد سویلین اور سیکورٹی فورس کے جوانوں نے جان کی قربانیاں دیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا اس قربانی کے بدلے میں پاکستان کے قرضے معاف کرتی یا اس میں رعایت دیتی مگر دنیا نےہم سے تعاون نہیں کیا، پھر حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے بھی پاکستان کی مالی پوزیشن کوخراب کیا،اس وقت ملک کی معاشی زبوں حالی، قرضوں کی بھرمار ، سرمایہ کاری کی شرح میں کمی، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے ، مہنگائی، بیروزگاری، صنعتی پیداوار میں تنزلی اور اسی نوعیت کے دوسرے مسائل کے پس منظر میں یہ اطلاعات تشویش ناک ہیں کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رواں مالی سال کیلئے نظرثانی شدہ میکرواکنامک فریم ورک کے حوالے سے معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکااور معاملات تعطل کا شکار ہیں۔

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف قرضہ پروگرام کے 9ویں جائزے کی تکمیل اور آئندہ سال یعنی 2023ء کیلئے ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا میں تاخیر ہو سکتی ہے،بات چیت کی کامیابی کی شکل میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس اگلے سال جنوری میں ہو گا جس میں پاکستان کیلئے اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی، ان حالات میں بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کبھی لانگ مارچ، کبھی دھرنے اور کبھی جمہوری نظام کو لپٹنے کی باتیں کر کے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان آنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔

انہوں نے افواج پاکستان کے خلاف بیان بازی کرکےبھارتی میڈیا کو پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کا موقع فراہم کیا، ان کےساتھی سپریم کورٹ پر تنقید کررہے ہیں جس سے عالمی سطح پر پاکستان میں انارکی کی صورت حال جیسے عوامل جنم لے رہے ہیں،وطن عزیز کی مضبوطی کے لئے معاشی استحکام بہت ضروری ہے اسی سے ملک کا دفاع کیا جاسکتا ہے، ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور حالات دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں،اس پر قابو پانےکیلئے پوری قوم کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جا ئے؟ پاکستان کے قرضوں کو کم کرنے میں نمک کی صنعت اہم کردار ادا کرسکتی ہے، پاکستانی نمک کی دنیا بھر میں ڈیمانڈ ہے،نمک کی درآمد پر توجہ دی جائے ،اس سے ہمیں خاصی رقم مل سکتی ہے، سیاستدان ، بیورو کریٹ اور دیگر اہم شخصیات اپنے بیرون ملک اثاثے پاکستان لائیں،ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے۔ ریونیو کا نظام بہتر کیا جائے اور ہر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی جائے۔ ایکسپورٹس بڑھائی جائیں، سیاحت کو فروغ دیا جائے۔

سبزیوں اور پھلوں کی ایکسپورٹ بڑھائی جائے۔ ہمیں اپنے اضافی اخراجات کم کرنا ہوں گے،افسروں کی مراعات ختم کی جائیں، قومی مصنوعات کی معیاری پیداوار اور عالمی منڈی تک رسائی یقینی بنائی جائے اور زرِمبادلہ کی بچت کی جائے۔سرکاری دفاتر کو سولر پینل پر منتقل کیا جائے، اس وقت عوام کی بڑی تعداد کو بجلی،پانی،آٹا،روزگار نہیں مل رہا، لوگوں کا جان و مال محفوظ نہیں، سیاسی استحکام کے بغیر نہ تو معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کوئی سنجیدہ اور ٹھوس کوشش ہوسکتی ہے اور نہ ہی عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جاسکتی ہے۔

عمران خان ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی تحلیل کرنا چاہتے ہیں، ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہی اگر انتشار اور سیاسی بحران کا شکار ہوگا تو دیگر صوبوں اور انتظامی اکائیوں میں بھی معاملات خراب ہوں گے۔ ان حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر یہ سوچنا چاہئے کہ ملک کو استحکام کی طرف کیسے لانا اور عوام کا جمہوری اداروں اور سیاسی نظام پر اعتماد کیسے بحال کرنا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ سوچا جائے کہ سیاست بچانی ہے یا ریاست؟

اپنا تبصرہ بھیجیں