الوداع جنرل باجوہ، چھ سالہ دور کا ایک جائزہ

جنرل قمر جاوید باجوہ آج پاکستان کے سب سے طاقتور منصب یعنی آرمی چیف سے ریٹائر ہورہے ہیں۔ ان کی شخصیت اور ان کے دور کا ایک جائزہ لینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ قوم کو معلوم ہو کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فوج کی کمانڈ کن حالات میں سنبھالنا پڑ رہی ہے اور پھر ان کے دور کے اختتام پر موجودہ حالات کے تناظر میں ہی ان کا محاسبہ ہو ۔

میری رائے کے مطابق پالیسیوں کے لحاظ سے جنرل باجوہ کادور بحیثیت مجموعی خوبیوں اور خامیوں کا مرکب تھا۔تاہم، ذاتی حوالوں سے ان کی خوبیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کی پہلی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک کھلے ڈھلے انسان ہیں اور آرمی چیف بننے کے بعد بھی ان کی یہ عادت برقرار رہی۔ بعض اوقات وہ بڑی بڑی مجالس میں دل کی بات اس طرح کہہ جاتے تھے کہ خود ان کے اور بعض اوقات ان کے ادارے کیلئے بھی مشکل کا باعث بنتی۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ ان میں غروروتکبر نہیں ۔ آرمی چیف ہوکر بھی وہ ملتے وقت مخاطب کو عزت دیتے اور اکثر اوقات مجھ جسے معمولی حیثیت کے حامل لوگوں کو بھی گاڑی تک چھوڑنے آتے ۔ ایک اور خوبی ان کی یہ ہے کہ اپنی یا فوج کی بعض غلطیوں کا کھل کر اعتراف کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اپنی غلطی کا علانیہ اعتراف کرنا غیرمعمولی لوگوں کی نشانی ہوتی ہے ۔

ان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ اپنے ادارے سے وابستہ لوگوں کے کیرئیر، سپاہیوں کی فلاح و بہبود اور شہدا کے لواحقین کا بہت خیال رکھتے اور ان کے دور میں ان کی فلاح و بہبود کیلئے بہت سارے کام ہوئے۔ ایک اور خوبی ان کی یہ تھی کہ ذات کی بجائے وہ اپنے ادارے اور نیشنل سکیورٹی کے معاملے میں حساس ہیں۔ مثلاً انہوں نے اپنی ذات اور عقیدے سے متعلق غلط پروپیگنڈا کرنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو بھی معاف کئے رکھا لیکن جب ملک یا ادارے کا معاملہ آیا تو انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل تک کی سطح کے لوگوں کو سزائیں دلوائیں۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کی سوچ منفرد اور باکمال تھی۔ وہ انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے تھے ۔ دوست ممالک اور امریکہ کے ساتھ بھی انہوں نے بہتر سفارت کاری کی ۔لیکن ان ذاتی خوبیوں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے دور میں فوج سیاست میں حد سے زیادہ دخیل اور متنازعہ بن گئی ۔ فوج نے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کےلئے جو سیاسی بساط بچھائی ، اس کی وجہ سے ملک اور خود فوج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا جبکہ دیگر ریاستی ادارے مثلاً مقننہ، عدلیہ اور میڈیا بھی زبوں حالی کا شکار ہوئے لیکن آخر میں جب انہیں احساس ہوا کہ عمران خان ناقابلِ اصلاح ہیں اور یہ کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی وجہ سے ملک اور فوج کو غیرمعمولی نقصان پہنچ رہا ہے تو انہوں نے نہ صرف اس عمل کو ترک کیا بلکہ اپنی غلطی کا برملا اعتراف بھی کیا۔

عمران خان کے پروجیکٹ کیلئے فوج نے سیاست میں جو مداخلت کی، میرے خیال میں اس غلطی کا بھی تنہا جنرل باجوہ کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں کیونکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی سپورٹ اور نون لیگ وغیرہ کی دشمنی کا پروجیکٹ انہیں ورثے میں ملا تھا۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کو تیسری قوت کے طور پر کھڑا کرنے کےپروجیکٹ کا آغاز 2010میں ہوا تھا۔جنرل راحیل شریف کے دور میں جنرل ظہیرالاسلام نے اس پروجیکٹ پر عمل کو تیز تر کردیا۔پیپلز پارٹی کے خلاف میمو گیٹ کا بے بنیاد اسکینڈل بنایا گیا اور اسی منصوبے کے تحت مسلم لیگ (ن) کے خلاف دھرنوں کے بعد ڈان لیکس کا ڈرامہ رچایا گیا تھا۔ اوپر سے پانامہ آگیا اور اس معاملے کو خود نون لیگی قیادت نے صحیح طریقے سے ڈیل نہیں کیا۔ یوں جب جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف بنے تو تین چیزیں انہیں وراثت میں ملیں۔ ایک ڈان لیکس، دوسرا پانامہ اور تیسرا عمران خان کو لاڈلا بنانے اور مسلم لیگ و پیپلز پارٹی کے خلاف نفرت ۔ یوں جب باجوہ صاحب نے کمانڈ سنبھالی تو ان کے سامنے دو راستے تھے ۔ ایک یہ کہ وہ اپنی فوج کی سوچ کو بدلیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے ادارے کی ترجمانی کرکے مسلم لیگ(ن) کو ٹھکانے لگائیں۔

بدقسمتی سے مسلم لیگ (ن) نے بھی جنرل راحیل شریف اور جنرل ظہیرالاسلام کے دور کا حساب جنرل باجوہ کے دور میں برابر کرنا چاہا جس کی وجہ سے جنرل باجوہ اول الذکر راستہ اپنانے پر مجبور ہوئے ۔ پھر ان کی ٹیم میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور جنرل آصف غفور جیسے لوگ شامل تھے جو عمران خان کی حمایت اور نون لیگ وغیرہ کی مخالفت میں آخری حدوں تک چلے گئے ۔ انہوں نے عمران خان کے حق میں عدلیہ، نیب،الیکشن کمیشن اور میڈیا کو اس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا کہ اندھوں کو بھی سیاست میں فوج کی مداخلت نظر آنے لگی ۔ دوسری طرف وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان تاریخ کے بدترین اور منتقم مزاج حکمران ثابت ہوئے جس کی وجہ سے فوج کو کھل کر خارجی ، داخلی سیکورٹی اور حتیٰ کہ معاشی معاملات بھی ہاتھ میں لینا پڑےاور حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے دور میں اگر پاکستان تھوڑا بہت سفارتی اور معاشی حوالوں سے بچا تو وہ جنرل باجوہ کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ دوسری طرف اس علانیہ مداخلت کی وجہ سے فوج سے پی ٹی آئی کے سوا باقی جماعتیں ناراض ہوئیں اوراس کی ناقد بنی رہیں۔

جنرل باجوہ کوشش کرتے رہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ معاملات درست کریں لیکن عمران خان کی یہ شعوری کوشش کامیاب رہی کہ وہ جب تک اقتدار میں رہے ، دونوں کو لڑائے رکھا۔ چنانچہ اس روش سے تنگ آکر فروری 2022میں فوج نے نیوٹرل بننے کا فیصلہ کر لیا ،جس کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ غیرآئینی بیساکھیوں سے قائم عمران کی حکومت دھڑام سے گر گئی۔ فوج کا خیال تھا کہ عمران خان ماضی کے احسانات کو مدنظر رکھیں گے لیکن انہوں نے احسان فراموشی کی حد کردی اور فوج یا پھر خود باجوہ صاحب کے خلاف الزام تراشی میں بھی ہر حد پار کردی ۔ اور تو اور تاریخ میں پہلی بار انہوں نے فوج میں پھوٹ ڈالنے کی بھی کوشش کی ۔ یوں اب فوج کی کم وبیش وہ کیفیت ہے کہ ”نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم“۔ بلکہ صنم تو بہت ستمگر بن گئے ہیں۔ اب جنرل عاصم منیر اس عالم میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا منصب سنبھال رہے ہیں ۔ چیلنجز تو بہت ہیں لیکن میرے نزدیک سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرکے فوج کو سب سیاسی جماعتوں اور سب طبقات کیلئے یکساں قابل احترام فوج کیسے بناتے ہیں؟

تحریر:- سلیم صافی

اپنا تبصرہ بھیجیں