پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن میں اسلام آباد یونائیٹڈ ٹیم کے آل راؤنڈر فہیم اشرف نے اس ٹورنامنٹ کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک ’گیم چینجر پلیٹ فارم‘ قرار دے دیا۔
جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں فہیم اشرف نے اپنی ٹیم کی موجودہ کارکردگی، اسلام آباد یونائیٹڈ کے مضبوط کلچر، پی ایس ایل کے معیار اور نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل پر تفصیلی بات کی۔
فہیم اشرف نے تسلیم کیا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی موجودہ کارکردگی مکمل طور پر مثالی نہیں رہی تاہم ٹیم اب بھی مضبوط پوزیشن کے لیے پر امید ہے، ٹیم نے کچھ اہم مواقع ضائع کیے جن کا نقصان انہیں پوائنٹس ٹیبل پر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی ٹیم کو دیکھیں تو ہم مطمئن بھی ہیں اور نہیں بھی، ایک میچ ہمارا واش آؤٹ ہو گیا اور دو میچ ہم ہار گئے جو ہمیں نہیں ہارنے چاہئیں تھے لیکن آپ ہارتے بھی ہیں تو کم از کم مارجن سے ہاریں تاکہ غلطیوں سے سیکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کا بنیادی ہدف اب ٹاپ فور میں جگہ بنانا ہے اور اس کے بعد اگر موقع ملا تو ٹاپ ٹو کے لیے بھی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
فہیم اشرف نے پی ایس ایل کو اپنی زندگی اور کیرئیر کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لیگ کھلاڑیوں کو دنیا بھر میں شناخت فراہم کرتی ہے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کے ماحول پر بات کرتے ہوئے فہیم اشرف نے مزید کہا کہ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت اس کا مثبت کلچر اور مضبوط کور سسٹم ہے، وہ کبھی بھی ذاتی ریکارڈز یا ٹاپ پرفارمر بننے کے بجائے ٹیم کی جیت کو ترجیح دیتے ہیں،میرا ہمیشہ ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ میری ٹیم جیتے، اگر میں چھوٹا سا بھی کردار ادا کر سکوں تو وہی میری کامیابی ہے۔










