سہیل آفریدی کا ضم اضلاع کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنےکے فیصلے پر نظرثانی کیلئے وزیراعظم کو خط

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ عوامی تشویش کا باعث قرار دیدیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کو ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے خط لکھ دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ضم اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے فیصلے سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کو لکھےگئے خط میں کہا کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنےکے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ عوامی تشویش کا باعث ہے، مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ انضمام کے وقت وفاق کی جانب سےکیےگئے وعدوں سےانحراف ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اضلاع کا انضمام وفاق کی جانب سےمالی، آئینی اور ادارہ جاتی معاونت کے واضح وعدوں کے ساتھ عمل میں آیا تھا، وفاقی وعدے آج بھی پورے نہیں ہوئے، انضمام کا تمام اضافی بوجھ کے پی تنہا اٹھا رہا ہے، ضم اضلاع کیلئے این ایف سی میں طے شدہ حصہ تاحال کے پی کو نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تباہ انفرااسٹرکچرکی تعمیر پر بھاری مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے، افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش نے ضم اضلاع کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس استثنیٰ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے فروغ کیلئے دیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت نے مجوزہ ٹیکس اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی مجوزہ ٹیکس اقدامات پرکوئی حتمی سفارشات مرتب نہ کرسکی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنےکا فیصلہ کیا گیا، سرحدی علاقوں میں ایسے فیصلوں کے امن و امان پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کے پی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے مجوزہ ٹیکس اقدامات مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں لکھا گیا کہ وفاقی حکومت کا ٹیکس استثنیٰ واپس لینےکا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے، وفاقی وعدوں کی تکمیل اور حالات میں واضح بہتری آنے تک ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں