اسلام آباد: صحافیوں، پالیسی ماہرین اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ نمائندگان نے آبادی اور وسائل میں توازن کو پاکستان کی معاشی استحکام، انسانی ترقی اور بہتر وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے خاندانی منصوبہ بندی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے اور مختص فنڈز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
یہ نکات پاپولیشن کونسل پاکستان اور یو این ایف پی اے کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقدہ میڈیا کولیشن میٹنگ میں سامنے آئے جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، پالیسی ماہرین اور ترقیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاپولیشن کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے کہا کہ صحت اور تعلیم پر ہونے والے اخراجات درحقیقت ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔
انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کی فراہمی کے نظام، بالخصوص لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی پیدائش کے درمیان مناسب وقفہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کیلئے انتہائی اہم ہے اور یہ اسلامی تعلیمات سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر علی میر نے “وقفہ مہم” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام میں خاندانی منصوبہ بندی اور صحت مند خاندانوں کے تصور کو فروغ دینے کیلئے میڈیا نے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جیو نیوز اور جنگ نے پاپولیشن کونسل پاکستان کے اشتراک سے جاری وقفہ مہم کے ذریعے اس اہم قومی مسئلے کو عوامی سطح پر اجاگر کیا جس سے خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت اور آبادی سے متعلق چیلنجز پر مثبت بحث کو فروغ ملا۔
پاپولیشن کونسل کے مینجر کمیونیکیشن اکرام الاحد نے اپنی پریزنٹیشن میں بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 2.5 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے جب کہ آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے پر سرکاری اخراجات خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہیں، قومی اہداف کے حصول کیلئے شواہد اور اعداد و شمار کی بنیاد پر پالیسی سازی اور متعلقہ اداروں کی جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سینئر اکنامک ایڈوائزر عمار علی قریشی نے کہا کہ آبادی اور وسائل میں توازن محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت ہے، تیزی سے بڑھتی آبادی، محدود وسائل اور معاشی چیلنجز ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق خواتین کی تعلیم، معاشی خودمختاری اور لیبر فورس میں شمولیت پائیدار ترقی اور شرح پیدائش میں کمی کیلئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
پروگرام میں شریک میڈیا نمائندگان نے صحت، تعلیم اور آبادی کے شعبوں کو درپیش چیلنجز، محدود وسائل اور خدمات کی فراہمی کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا عوامی آگاہی پیدا کرنے، درست معلومات کی فراہمی، رویوں میں مثبت تبدیلی لانے اور حکومتی وعدوں اور پالیسیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ میڈیا، سول سوسائٹی، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں کے درمیان مؤثر تعاون بھی ضروری ہے۔
میٹنگ کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آبادی میں توازن ایک قومی ترجیح ہے، جس کے حصول کیلئے سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل، مؤثر پالیسی عملدرآمد اور مسلسل عوامی آگاہی ناگزیر ہیں۔










