۔۔۔۔ برداشت ۔۔۔۔ تحریر ۔۔ عمران رشید

تحریر عمران رشید

دنیا میں انسان اپنی حیات بسر کرے بھی تو کیسے؟انسان نما درندوں سے بھری پڑی ہے یہ دنیا ۔ہر لمحہ ہر آن آپ اپنے پرایوں کی سازشوں اور شورشوں کی زد پہ رہتے ہیں۔مکاری اور عیاری ہر گام پہ اپنے پورے جوبن پر آپ سے معانقے کرتی ہے۔سازشوں کے تانے بانے کہاں سے شروع ہوتے ہیں کہاں ختم،آپ سمجھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ انسانی معاشرہ ایک گنجلک گورکھ دھندہ ہوتا ہے۔
لوگ سالوں اپنے سینوں میں نفرتوں اور عداوتوں کا زہر چھپائے پھرتے ہیں ،آپ کے پہلو سے جڑے لوگ آپ کو وقت آنے پہ ڈس لیتے ہیں۔ہجوم دوستاں میں کون مار آستیں ہے،آپ کبھی بھی جان نہیں پاتے۔
انسان کے مزاج کا تو یہ حال ہے،
گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے،اونٹ کی طرح کینہ پرور ہوتا ہے،کتوں کی طرح بھونکتا بھی ہے اور خنزیر جیسا حریص بھی بن جاتا ہے.
اکڑنے پہ آئے تو چیتے سا تکبر اور حیلہ بازی پہ اترے تو لومڑی جیسی مکاری بھی اختیار کر لیتا ہے۔انسانوں کا معاشرہ اور خصلتیں حیوانی !
مولائے روم کا اک فارسی شعر:

“دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کردیو ودد ملولم و انسانم آرزوست”

ترجمہ اس کا ہے کہ ایک نیک آدمی سارا شہر گھوم آیا،اسے کوئی انسان نہ ملا۔درندوں اور شیطانوں سے آزردہ حال تھا۔
زمانہ حال کے ایک بڑے بزرگ مولانا احمد علی لاہوری اس طرح کا مشاہدہ کر چکے،کہتے ہیں کبھی وہ بازار نکلتے تو انہیں انسان ،کتوں بلوں جیسے لگتے۔یہ ان کی اندر کی آنکھ تھی شائد،جسے باطنی آنکھ کہتے ہیں۔
انہی لوگوں سے چومکھی لڑائی کرتے آپ زندگی بسر کرتے ہو۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا،انسان شیر کی کچھار میں چلا جائے بچ جائے گا۔بھیڑیے کے بھٹ سے محفوظ رہ جائے گا۔سانپ کے بل میں ہاتھ ڈال دے بچ جائے گا۔مگر انسان انسان کے بس پڑا نہیں بچتا۔اشرف المخلوقات تو ہے،مگر گرنے پہ آئے تو اسفل السافلین بھی ہو جاتا ہے۔
سوچنے کی بات ہے ایسا کیوں ہے۔
یہ انسانوں کا انسانوں سے تعامل اور اس سے جڑے مفادات کی دنیا اور اس پہ مستزاد نفس کی شرر انگیزیاں ہیں۔
کرہ ارض پرسانپوں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں ،مگر نفس انسانی کے بل کتنے ہیں ،کوئی نہیں جانتا۔ان کا کوئی شمار نہیں ۔
معاشرے کی عمومی ہئیت کو سدھارنے کیلئے انسانی اذھان اپنی سی کو ششیں کرتے رہے,لیکن یہ سدھار ،اور قسم کے بگاڑ کو بڑھاوا دیتا رہا۔اس میں دوسری کوئی رائے نہیں کہ مذہب کے بغیر انسان واقعی ایک حیوان نما انسان ہی ہے۔
جن لوگوں نے وحی الہی پہ یقین کیا اور نفس سے مستقل اور دائمی جنگ جاری رکھی وہ کامیاب اور مطمئن زندگی گزار گئے۔
سورہ النازعات میں ہے،”جس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکے رکھا،جنت
اس کا ٹھکانہ ہے”.

نبی مکرم آنحضرت ﷺ نے فرمایا,”مومن پانچ سختیوں کے درمیان ہوتا ہے۔
مومن جو اس سے حسد کرتا ہے۔
منافق اس سے دشمنی رکھتا ہے۔
کافر اس سے لڑتا ہے۔
شیطان اسے گمراہ کرتا ہے۔
اور نفس جو اس سے الجھتا اور جھگڑتا رہتا ہے۔”

نفس کی بغاوتوں پہ قابو پا لیں تو کئی معاملات سلجھے رہتے ہیں ۔
لوگوں کو برداشت کرنا سیکھ جائیں ،زندگی بھی سکھی ہو جائے گی۔
جب ہم لوگوں کو برداشت کرتے ہیں ،تو اس سے ہمارے اندر توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔
جس سے اناء کمزور اور ،صحت روح کو جلاء ملتی ہے۔
آپ ﷺ کا ذکر کیا؟آپ ﷺ تو انسانیت کی معراج تھے۔آپ ﷺ نے مکہ کے لوگوں کی دریدہ دہنی،بد زبانی،جسمانی تکالیف اور ازیتیں برداشت کی۔مسلسل ,اور لگاتار تیرہ سال۔

مجھے یاد ہے والد گرامی بھاءجی رشید سنہ چھیاسی میں حج ادائیگی سے واپس آئے تو ایک دن اپنے ملاقاتیوں کو بیٹھک میں گاؤ تکیے پہ نیم دراز دیوار سے ٹیک لگائے بتا رہے تھے کہ
نبئ کریم ﷺ کے تمام دیگر معجزات برحق، مگر اس کے ساتھ مکہ کے تند خو عربوں کو مائل بہ اسلام کر دینا ہی خود اپنی جگہ ایک زندہ و جاوید معجزہ ہے۔
وہ لوگ جو کل بھی ستم گر اور اجڈ تھے اور آج بھی ان کا تکبر اور رعونت نہ گئی ۔
برداشت پہ اولیاء اللہ کے قافلے کے ایک بزرگ ابو عثمان عبری کے دو واقعات نقل کرتا چلوں.
روایت ہے کسی شخص نے آپ کو دعوت پر مدعو کیا،آنے پر کوئی عذر کر کے واپس لوٹا دیا.اس طر ح کی بہانے بازی کئی دفعہ کی اور دستر خوان تک رسائی نہ دی.مگر آپ کے ابرو پر کوئی شکن تک نہ آئی ،وہ شخص بڑا متاثر ہوا،گویا ہوا حضرت آپ کی برداشت اور اخلاق آزما رہا تھا۔آپ نے فرمایا ،”یہ تو کتے کا اخلاق ہے،بلاؤ تو آجاتا ہے، دھتکارو تو چلا جاتا ہے۔انسان کی برداشت تو اس سے کہیں زیادہ ہونی چاہئے “۔
انہیں بزرگ سے ایک اور واقعہ منسوب ہے۔راہ چلتے کسی نے آپ پر راکھ کا ٹوکرا پھینک دیا،آپ سواری سے اترے سجدہ شکر بجا لائے کچھ ڈانٹ ڈپٹ نہ کی ۔لوگوں کے استفسار پہ کیا شاندار جملہ فرمایا.
کہا ،جو جسم آگ کا مستحق ہو اس پر راکھ پڑ جائے تو اسے غصے اور غضب میں نہیں آنا چاہئے ۔
برداشت کی مشقت سے بچا بھی جا سکتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے،”لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق گفتگو کیا کرو”
یونانی فلسفی حکیم جالینوس نے ایک دانا آدمی کو ایک جاہل کے ساتھ بحث کرتے دیکھ کر تعجب کا اظہار کیا،کہ یہ کیسا عقلمند آدمی ہے جو ایک نادان سے بحث و تکرار میں مشغول ہے

“جواب جاہلاں باشد خاموشی ”
والا معاملہ ہو جائے تو اعصاب پہ کم بوجھ پڑتا ہے۔
ہم من حیث القوم عدم برداشت کی حامل قوم ہیں ۔
ٹونی کلف ابلاغیات کی “ما بعد الجدیدیت “میں کہتا ہے کہ جدیدیت کے دور کے بعد ہر کوئی بے لگام اور شتر بے مہار ہو چکا ہے۔
ملک عزیز میں دیکھیں تو کوئی کسی کی نہیں سنتا.ادارے باہم دست وگریباں ہیں۔لکھاریوں کا آپس کا انتقامی اختلاف رائے ہے۔سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں سندھی ،بلوچی،پختون اور پنجابی ایک دوسرے کے جان و مال کے درپے ہیں.مساجد کے اندر اور باہر مسلکی اور فقہی اختلافات سرخ رنگ اوڑھنے اور اوڑھانے پہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔گلی محلوں میں ہمسائے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔دوستوں رشتہ داروں میں منافقانہ مفاہمت ،اور تو اور ایک گھر میں رہتے میاں بیوی،بہن بھائی اور والدین سے احترام اور لحاظ کے معاملے تشنگی کا شکار اور مروت کے طلبگار ہیں۔
کرنے کا کام یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کرنا چاہئے چھوٹی موٹی باتوں پر آگ بگولہ اور سیخ پا نہیں ہو جانا چاہئے ۔
ہم گناہگار خود بھی تو اس خدائے رحیم اور کریم کی بخشش کی آس پہ زیست کے ماہ و سال تمام کئے جارہے ہیں ناں.

نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی ۔

( تحریر ۔۔۔ عمران رشید )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں