ہیرو نے ہیروئین کو بچانا ہے مگر ڈائیلاگ سے نہیں، تحریر: ھدیٰ شاہ

انسان جس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس چیز کے حصول کا آغاز انسانی خیالات سے جڑا ہوتا ہے یعنی آپ جیسا سوچو گے ویسے ہی رزلٹ کے امکانات ترتیب پاتے ہیں لیکن بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا اور سیاست میں تو بالکل بھی نہیں ہوتا۔ کچھ ایسا ہی ہوا ہے نئے پاکستان کے 100روزہ پلان میں۔
بائیس سال کی جدوجہد (خواہش) اور عمران خان صاحب آخرکار وزیراعظم بن گئے۔لیکن کیا انکو یہ پتہ ہے کہ وزیراعظم کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ وزیراعظم کو کیا کہنا چاہیے ؟ کیا کرنا چاہیے؟
حکومت بنے ہوئے100 دن گزر گئے۔ ہم نے ان100 دنوں میں اور اس سے پہلے بڑے بڑے دعوے سنے، بڑی بڑی باتیں سنی اور ان وعدوں اور دعووں کے ساتھ آپ مانیں نا مانیں دل بھی لگا لیا۔ اب وہ کسی جلسے میں خطاب ہو یا تقریب میں، یا پھر کنٹینر پر چڑھ کر بولے ہوئے دانائی کے موتی۔ ہم نے سنا کہ ملک کتنے خسارے میں ہے اور سیاست دان کتنے بڑے چور ہیں۔ اور حکومت کیسے چلنی چاہئے کے طریقے بھی۔
لیں جی! حکومت آگئی وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا اور پہلے خطاب میں اپنا منشور بیان کیا اور کہا کہ100 دن میں آپ کو خاطر خواہ تبدیلی نظر آئے گی اور سمت کا تعین ہوگا۔
پھر یوں ہوا کہ 100دن گزر گئے اور ہمارا حال وہی ہوا جو منٹو کے عظیم کردار منگو تانگے والا کا ہوا تھا ان کی کہانی”نیا قانون “ میں۔ وہ جو کہتے تھے نوکریاں فراہم کریں گے ،لوگوں کو نوکریوں سے نکلتے دیکھا۔ وہ جو کہتے تھے رہنے کے لیے گھر دیں گے انہی کو لوگوں سے انکی چھتیں چھینتے دیکھا۔ وہ جو کہتے تھے کہ غریبوں کی مدد کریں گے ہم نے دیکھا کہ کس طرح غریب آدمی کو مہنگائی کی چکی میں پیسا گیا۔
اور پھر ایک دن آیا کہ100 دن کی کارکردگی کو پیش کرنے کے لیے عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام وزرا کو بلایا گیا اور موقع دیا گیا کہ جو وعدے100 دن پہلے کیے گئے تھے ان پر اپنی Acting کا مظاہرہ کرتے ہوئے روشنی ڈالیں اور عوام کو پہلے سے قدرے بہتر روشن اور نئے خواب دکھائیں اور یقین مانیں تمام وزرا نے اپنے وزیراعظم کو مایوس نہیں کیا اور بہت ہی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور چلتے بنے۔
اور پھر وزیراعظم عمران خان ایک فلم کے”ہیرو” کی طرح آخر میں آئے اور فلم کی ہیروئین (پاکستان) کو بچانے کے طریقے بتائے۔ یہاں سے خان صاحب سے اختلاف شروع ہوتا ہے کہ ہیروئین کبھی بھی بتائے گئے طریقوں کے ذریعے بچانے سے نہیں بچتی۔ ہیروئین کو بچانا ہے تو ڈائیلاگ ڈلیوری کے ساتھ ہوش مندی،فراصت، داؤپیچ اور کچھ مہارتیں بھی چاہئے ہوتی ہیں۔ باقی یہ تو سب جانتے ہیں کہ ڈائریکٹر ہیرو کو ہیرو ثابت کرکے رہتا ہے۔ اور فلم کے آخر تک سبھی آ ڈیئنس بھی ہیرو سے جذباتی وابستگی لگا چکی ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر بات صرف ہیرو کی ناکارکردگی پر رک جائے تو پھر پنجابی میں تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن اردو جیسی نستعلیقی زبان میں اسکو کہیں گے کہ قسمت نے ساتھ نہیں دیا اور میرے خیال میں اسی کو بدقسمتی بھی کہتے ہیں۔
____________________________________________________
ھدیٰ شاہ معروف نیوز اینکر ہیں اور ان دنوں  24 نیوز چینل سے منسلک  ہیں۔ سیاست اور ملکی حالات پر گہری نظر رکھنا اور اس پر تجزیاتی تحریریں لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔  ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ @hudashahhہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں