گندم کا دانہ، تحریر: حسن نصیر سندھو

جیسے ہی مالک نے د وکان کا شٹر اٹھایا توسورج کی کرنو ں سے میری آنکھیں چند ھیا سی گئیں ۔ یہ ابھی سردیوں کی صبح کا آغاز تھا، میں اپنے بے شمار دوستوں کے ساتھ ہی تھااور دل ہی دل میں دعا کر رہاتھا کہ مجھے ایک محنتی اور خدا ترس کسان اپنے ساتھ لے جائے جسکے میں کسی کام آسکوں۔ میں اپنے دوستوں کی نسبت زیادہ طاقتور تھا۔ میری نسل بھی اس لیے زیادہ مشہورتھی۔ صبح سے لے کر شام تک کئی لوگ آئے اور میرے مختلف دوستوں کو ساتھ لے کر چل دئیے۔مگر جسکا مجھ کو انتظار تھا وہ آج بھی نہیں آیا۔ رات ہونے کے قریب تھی۔ مالک اب دوکان بند کرنے کی تیاری میں ہی تھا کہ ایک دراز قد ،اطمانیت سے بھرا چہرہ، کشادہ پیشانی اور دھیمے لہجے والے شخص نے آکر سلام کیا۔میرا دل زورزور سے ڈھرکنے لگا۔ اور رب سے دعا کرنے لگامجھے اس کے نصیب کو بدلنے والا لکھ دے۔
شاید قبولیت کا وقت تھا ۔ اس کسان نے مالک دوکان سے ٹھوری سی بحث کرنے کے بعدمجھ سمیت میری نسل کے باقی دوستوں کو بھی خرید لیا اور اپنے کندھے پر لاد کر ان دیکھی سمت کو چل پڑا ۔ میرے دوست پریشان تھے کہ ان کا مستقبل پتا نہیں کس کے ہاتھ آگیا ہے پر میرے دل میں سکوں تھا۔ دیسی ساخت کے رکشہ پرکچھ سفر طے کیااور رات کے وقت ایک دیہاتی علاقہ میں پہنچ گئے۔ کسان کے گھر کا دروازہ اسکی بڑ ی بیٹی نے کھولا اور بڑ ی پیاری مسکراہٹ کے ساتھ اپنے والد کو سلام کیا جسے دیکھتے ہی کسان کے چہرے سے ساری تھکان غائب ہو گئی۔ کسان کے چھوٹے دو بچے اور ایک بچی بھی بھاگتے ہوئے اپنے باپ سے چمٹ گئے۔
پیچھے سے ایک زنانہ آواز آئی کہ اپنے باپ کو سکھ کا سانس تو لے دینے دو، آتے ہی ایسے گلے لگ جاتے ہو جیسے صدیوں بعد ملے ہو۔ کسان نے ہمیں برآمدہ میں ایک دیوار کے ساتھ لگادیااور نہانے کے بعد چارپائی پر بیٹھ کر سب کے ساتھ کھانا شروع کر دیا۔ جب بچے سو گئے تو میں نے اندھیرے میں دیکھا کہ کسان اور اسکی بیوی ہماری طرف دیکھ کہ آہستہ آہستہ گفتگو کر رہے تھے۔ نیند کی آغوش میں جانے سے پہلے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کسان نے کہا تھااللہ میری محنت میں برکت ڈالے گا۔
صبح مجھے اپنے اوپر کسی کے ہاتھ کی گرفت محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کہ اچھے سے بیدار ہوتا اس ہاتھ نے ہوا میں دور مجھے زور سے اچھال دیا اور میں نے بدحواسی میں اپنے اردگرد اپنے بہت سے ساتھیوں کو بھی دیکھا تو سمجھ گیا کہ منزل پاس آگئی ، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، نرم زرخیز زمٹی میں گرتے ہی ہم سب دوست خوشی سے پھولے نہ سمائے اور کھیلنے لگے۔ مٹی کی نمی سے ہم میں ایک نئی طاقت آنے لگی۔ دن گزرنے لگے،روز صبح کسان آتا ہمیں دیکھتا خوشی سے ’’فَبِايِّ آلَاءِ رَبُِّ کمَا تُکَذِّبَانِ ‘‘ پڑھتا اور اللہ سے رحمت کی دعا کرتا۔ اب ہم سب پودے کی شکل اختیار کر تے جا رہے تھے۔ کسان نے ہماری بہتر پرورش کے لئے پانی لگایا اور بہت ہی اعلی نسل کی کھاد ڈالی جس سے ہم مزید توانا ہو گئے۔
کئی مہینے گزر گئے۔ایک دن معمول کے مطابق کسان صبح صبح ہمارے پاس آیاپر آج خلاف معمول اسکی بیوی بھی ساتھ تھی۔ میں انکی باتیں سننے لگ گیا۔ بیوی کہہ رہی تھی کہ اگلے مہینے ہماری بیٹی کی شادی ہے اور اس کے جہیز کے پیسے اور مہمانوں کے تواضع کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گئے؟ اوپر سے تینوں بچوں کے سکول کی فیس دینے والی رہتی ہے۔ آپکے اور اپنے کپڑے پچھلے تین سال سے نہیں لئے۔ کسان نے ایک ہاتھ سے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے ہماری طرف اشارہ کیا اور کہا ’’دیکھ پگلی اللہ نے اپنی رحمت کی ہے، گبھرا مت سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ کسان کی بیگم نے ہمیں دیکھا تو اس کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آ گئی جیسے دل میں تمام خوفوں کو تسلی سی مل گئی ہو۔ میں نے بھی ذرا سر اٹھا ک دیکھا تو صبح کی ہوا میں اب میرے تمام ساتھی اپنی تمام ہریالی والا رنگ چھوڑکے سنہری رنگ میں ہوا کے ساتھ جھول رہے تھے۔ ایسا سماں تھا جیسے ہوا میں اصلی سونا تیر رہا ہو اور مجھے اپنے ساتھیوں پے فخر ہوا کہ مجھ سمیت میرے ساتھیوں نے بھی کسان کی محنت کا بھر پور جواب دیا ہے اور مجھے کسان کی تمام خواہشیں پوری ہوتی نظر آئیں۔
چند دن بعد کسان اپنے بچوں، بیوی اور چند لوگوں کے ساتھ ایک مشین کے ذریعے ہمیں اگلی منزل کی طرف لینے کے لئے آگیا۔ جب ہم آئے تھے تو ہزاروں میں تھے پر اب لاکھوں میں تھے۔ کسان بار بار فبای الاء ربکما تکذبن پڑھ رہا تھا۔ کسان نے کٹائی میں مشین والوں کو ایک من ہمارے ساتھی دئیے پھر گاؤں کا مولوی ، لوہار، موچی اور نائی کو بھی دو دو من میرے ساتھی دئیے، کئی قلندر مانگنے کے لئے آئے انہیں بھی دیئے، اپنے بچوں کو بھی جھولی بھر بھر کے دئیے کہ جاؤ آج انہیں بیچ کر عیاشی کرو۔ کئی چرند پرند بھی میرے ساتھیوں کو چگ گئے مگر کسان کو مشین والوں کی مکاری نظر نہیں آئی جو وہ میرے بہت سے ساتھیوں کی کٹائی کے دوران نیچے گراتے گئے اور تو اور کئی من اپنی مشین کے پیٹ میں ہی چھپا کے بھی لے گئے۔
کسان کی خوشی دیدنی تھی وہ ہمیں ٹرالی میں لادکر منڈی کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں کئی بچوں نے میرے ساتھیوں کو چلتی ٹرالی سے چوری کیا۔ مجھے یہ سب دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی مگر کسان کی خوشی دیکھ کر مطمن ہو جاتا تھا کہ آج میری وجہ سے اسکی بیٹی کی شادی اور باقی ضرورتیں پوری ہو جائیں گی۔ منڈی میں جاتے ہی ہمیں ہمارے دوسرے نسل کے بھائیوں کے ڈھیر کے ساتھ اتار دیا گیا۔ مختلف خریدار آئے تو آڑھتی نے کسان کو کہا آپکا کھانا لگ گیا ہے ویسے بھی اتنی مٹی میں آپ کیا کریں گے؟ ہم ہیں نا۔ اور کسان کو اپنے آڑھتی کے اس احساس پر بڑا پیار آیا اور دوکان کی طرف چل دیا۔ ہماری بولی ہوئی ہمارے ڈھیڑکو 1100روپے لگے پر گورنمنٹ نے تو 1300 روپے مقرر کر رکھا ہے، میرے ایک ساتھی نے سرگوشی کی۔ ہمارا تول شروع ہوا۔ تول والے ہر بوری میں مقررہ وزن سے زیادہ بڑھ رہے تھے اور کسی کو بھی کوئی پرواہ نہ تھی۔ مگر میں ابھی بھی مطمئن تھا۔
کچھ دیر بعد کسان اور آڑھتی ہماری طرف ہی آگئے۔ کسان آڑھتی سے حساب کر رہا تھا۔ آڑھتی نے اسے ایک پرچی پکڑا دی۔ کسان نے کہا اگر پڑھا لکھا ہوتا تو اور کیا چاہیے تھا تو آڑھتی نے مسکراتے ہوئے کہا آپکا سارا حساب کتاب لگا کر ابھی بھی آپ میرے تین لاکھ روپے کے مقروض ہیں۔ کسان کا چہرہ جیسے بجھ سا گیا اور میرا دل جیسے پھٹ سا گیا ہو۔ میں چیخ چیخ کے بتانا چاہتا تھا کہ اس آڑھتی نے ابھی ابھی دس بوریاں آپ سے چھپا کر ایک طرف کی ہیں ۔ اس کے نوکر نے بھی میرے ساتھی تھلے کی زمرے میں چھپائے ہیں اور سب سے بڑا دکھ کہ میں اعلی نسل ہونے کے باوجودکام نہ آسکا۔ کسان کچھ دیر ساکت کھڑا رہا اور پھر آہستہ سے زیر لب بڑبڑایا اللہ مالک ہے اور گھر کی طرف چل دیا۔
__________________________________________
حسن نصیر سندھو یونیورسٹی آف گجرات سے ایم فل کرنے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے میڈیا اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ سماجی مسائل کو اچھوتے انداز میں اپنی تحریروں میں بیان کرنا ان کا خاصا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں