کربلا کے بھوکے اور پیاسوں کی نسبت سے،گوجرانوالہ میں لنگر اور نیاز کا خاص عقیدت سے اہتمام

شہداء کربلا کی بھوک اور پیاس کی نسبت سے لنگر اور نیاز تقسیم کرنے کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔شہری اپنی استطاعت کے مطابق بچوں اور بڑوں میں چاول،بریانی، قورمہ، حلیم ، حلوہ، کھیر ،دودھ، چائے اور شربت وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔


ان پکوانوں کو تقسیم کرنے کیلئے مٹی کے برتنوں کا استعمال کرنا ایک قدیم روائیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ محرم الحرام میں مٹی کے کٹورے ، کٹوریاں ، پلیٹیں اور پیالوں کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے انہیں خریدنے کیلئے گھنٹہ گھر اور نیائیں چوک میں قائم دکانوں کا رخ کر لیا ہے ۔

مٹی کے برتنوں کے ساتھ ساتھ شہری مٹی کے دئیے بھی خرید رہے ہیں جنہیں محرم الحرام میں منت ماننے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ منت پوری ہونے پر بھی انہی برتنوں میں نیاز تقسیم کی جاتی ہے ۔ان دکانوں پر پیالے ایک سو روپے ، دئیے چالیس روپے جبکہ کٹوریاں بیس روپے فی درجن کے حساب سے فروخت ہو رہی ہیں ، دکانداروں کا کہنا ہے کہ محرم الحرام میں مٹی کے برتنوں کی فروخت عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔


معصومین کربلا کی یاد میں مٹی کے برتنوں میں لنگراور نیاز تقسیم کرنے کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق شہداء کربلا سے عقیدت کا اظہار کرتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں