نواز شریف اور بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی پر بھی اعتراضات سامنے آ گئے

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور مریم نواز کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی پر بھی اعتراضات سامنے آ گئے۔

مانسہرہ کے حلقہ این اے 15 سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرتے ہوئے اعتراض کنندہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف 5 جج فیصلہ دے چکے ہیں اور سپریم کورٹ انہیں تاحیات نااہل کرچکی ہے، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔

نواز شریف کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے والی ریٹرننگ افسر حاجرہ سمیع نے اعتراض کی سماعت کیلئے نواز شریف کو آج 12 بجے کا وقت دے دیا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 لاہور پر بلاول کے کاغذات نامزدگی پر شہری محمد ایاز کے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ بلاول نے کاغذات نامزدگی میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سے وابستگی ظاہر کی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز الگ الگ سیاسی جماعتیں ہیں، بلاول بھٹو کا دو جماعتوں کا رکن ہونا الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 28 دسمبر کو ہوگی۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 لاہور میں بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر ن لیگ کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

میاں نصیر نے اپنے اعتراض میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہیں، توشہ خانہ کیس میں ان کی سزا معطل ہے، ختم نہیں ہوئی اس لیے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں، ریٹرننگ افسر نے جانچ پڑتال ملتوی کردی، مزید پڑتال آج ہوگی۔

پی پی 80 سرگودھا سے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی پر دو وکلا علی حسن شاہ اور مہرطاہر کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔

اعتراض میں کہا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں مریم نواز کے اصل دستخط نہیں، مریم نواز سزا یافتہ ہیں اور انہوں نے اپنے اثاثے بھی کاغذات نامزدگی میں چھپائے، ان کے کاغذات مسترد کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں