فنِِّ خوشامد، تحریر: عمران رشید

وہ دن ہوا ہوئے اور وہ تعلیمات بھی طاقِ نسیاں ہوگئیں،جب کہا جاتا تھا کہ خوشامدی کے منہ پر مٹی ڈال دو۔
زمانے کے رنگ ڈھنگ بدلے،جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اب خوشامدی کا منہ گھی شکر،نوٹوں اور پلاٹوں سے بھر دیا جاتا ہے۔جہاں اور اسلامی تعلیمات چرخِ کہن کی گردشوں کی نظر ہوگئیں،وہاں اب یہ حدیث کہ کسی کی خوشامد کرنا اسے ہلاک کردینے کے مترادف ہے،لوگوں کے ذہن سےمحو ہوچکی ہے۔
کل میری ایک دنیاوی لحاظ سے کامیاب خوشامدی دوست سے سرراہ ملاقات ہوگئی۔موصوف ذرّے کو آفتاب اور آبِ جو کو بحرِ بیکراں کرنے کے فن میں مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔یا یوں کہہ لیں کہ کُوزہ آب کو دریا کر دیتے ہیں۔یہ ان کے فن کی معراج ہے۔ملاقات طول اختیار کر گئی۔میں نے ازراہِ لطافت ان کے فن خوشامد پر چوٹ کی تو کِھل اٹھے۔پڑھے لکھے آدمی ہیں۔جنابِ اقبال کو گفتگو میں شامل کرتے ہوئے اپنے فن کی حقانیت میں دلیل دیتے ہوئے جھوم کے دو شعر سنائے۔

“ہم نے اقبال کا کہا مانا
اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے۔
جھکنے والوں نے پائیں رفعتیں
ہم خودی کو بلند کرتے رہے۔”

میں ان کے ذوق کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔اور آنِ واحد میں ان کی شاندار کامیابیوں کی وجہ سمجھ آگئی۔ان کی بقیہ گفتگو میری سوچوں کو مہمیز کر گئی۔
واقعی زندگی کا کونسا ایسا شعبہ ہے،جس میں خوشامد تیر بہدف کا کام نہیں کر رہی۔آپ خود اپنے گردونواح میں نظر دوڑا لیں،آپ کو چاپلوس انسان ہی پھلتے پھولتے نظر آئیں گے۔
مانا کہ خوشامد کی مسلسل مشق خوشامدی کو ذلت کی عمیق گہرائیوں میں گرا دیتی ہے،پر اس کا کیا کیجئے کہ چاپلوس آدمی شرفِ انسانیت کو پہچاننے کے جوہر سے ہی محروم ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن کاسئہ لیس آدمی کو اس نقصان کی ذرہ برابر پرواہ نہیں ہوتی۔مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کو کون جانے،کون سمجھے۔
بس معاملات زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔
کسبِ معاش پہ کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔
یہ تو ہوگئی عامتہ الناس کے مجموعی حالات۔
ایک اور طبقہ بھی ہے جس کو بہر حال طاقتور بمعنی اثر پزیری لیا جاتا ہے۔ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو کسی قوم کی ذہن سازی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔یہ لوگ قلم کے کھلاڑی ہوتے ہیں۔
اکثر تو نہیں ہاں بیشتر اسی روش پہ گامزن ہیں۔آپ کو بھی شائید اتفاق ہوتا ہو،اگر آپ ان کی تحریریں پڑھتے ہوں،حد سے زیادہ بڑھی مدح خوانی خود اپنا احتجاج اور فریاد کرتی نظر آتی ہے۔کہ میرا بے جا استعمال خدارا بند کیا جائے۔
وہ لکھاری،وہ دانشور پتہ نہیں کہاں چلے گئے جو اپنی دعائے نیم شب میں پکارا کرتے تھے۔

“میں اور پڑھوں قصیدۂِ اربابِ اقتدار

میرے قلم سے جُراتِ رفتار چھین لے۔”

کاغذ قلم کے ساتھ اب تو سکرین کا دور آگیا۔
اکثر دیکھتا ہوں بڑے بڑے نامور علماء حضرات سیاست دانوں کی نا بالغ اولادوں کے پیچھے ہاتھ باندھے باادب کھڑے،نجانے راہِ سلوک کی کونسی اعلیٰ منازل طئے کر رہے ہوتے ہیں۔اسی پر بس نہیں،عمر رسیدہ اور صاحب فہم و فراست سیاست دان بھی انہیں کم سنوں سے افلاطون کی” دی ریپبلک” کا درس لئے نظر آتے ہیں۔
ان سے ریاست کے رموز و اسرار سیکھتے دکھائی دیتے ہیں۔
انسانی نفسیات بھی اک معمّہ ہے شاید سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔انسانوں نے مادی ترقی بہت کر لی۔
مگر آج بھی وہ اپنے مفادات اور مالی منفعت کے حصول کے لئے ہزاروں سال پرانے
،خوشامد ،کاسہ لیسی،چاپلوسی،خوشہ چینی،اور مدح سرائی کے ہتھیاروں سے پوری طرح لیس ہے۔اقبال بھی اپنے دور میں یہی گریہ زاری کر گئے۔

“میں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ،و لیکن
اربابِ نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز

کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد
دستور نیا،اور نئے دور کا آغاز۔”

پتہ نہیں ملکِ عزیز میں کونسا نیا دور چل رہا ہے۔
مجھے تو ہر طرف پرانے ہی راہ و رسم دکھائی دیتے ہیں۔
ہاں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہمیں اس بیماریِٔ دل سے اجتناب کرنا چاہیے۔
شیخ سعدی کی صدیوں پرانی درج حکایت جو ذرا سی ترمیم سے امریکی مصنف اور استاد ڈیل کارنیگی سے منسوب کر دی گئی۔
“دشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اس وقت جب وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔”

دنیا دیکھ کے خیال آتا ہے, کیسے کیسے بو نے لوگ خوشامد کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے قد آور ہوگئے۔اور انجمنِ ستائشِ باہمی کی بدولت رونقِ دنیا ہوگئے۔۔۔۔
______________________________________
عمران رشید ایک کہنہ مشق کالم نگار اور وسیع المطالعہ لکھاری ہیں ۔ ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کرنے کے بعد کینیڈا میں مقیم اور” فکرو خیال ” کے مستقل عنوان سے لکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں