چاول پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ ہے اور چاول کی برآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سٹیٹ بینک کی ایکسپورٹ دشمن پالیسیاں ہیں، معروف رائس ایکسپورٹرز خواجہ محمد انیس ڈار، سمیع اﷲ نعیم ،چو دھری محمد یوسف ،ذیشان میر ،احسان اﷲ ورک ،ذوالفقار بٹ اور خواجہ عاصم انیس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بینک رائس ملرز اور ایکسپورٹرز کوکیش فنانس دیتے وقت ان کی بھاری مالیت کی پراپرٹیز اور سٹاک تک رہن رکھ لیتے ہیں لیکن قرضے کی صورت میں ویلیو کا نصف بھی نہیں دیا جاتا، سٹیٹ بینک کوچاہئے کہ رائس ایکسپورٹرز کو آسان شرائط پر قرضے دے ، چاول کی برآمد کو بڑھاوا دینے کے حوالے سے رائس ریسرچ سنٹرز کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں
بھارت میں ہر سال دھان کے دو ،تین نئے بیج متعارف کروائے جاتے ہیں جبکہ وطن عزیز میں ایک عرصے کے بعددھان کا1509 بیج متعارف کروایا گیا ہے ،رائس ایکسپورٹرز کا مطالبہ تھا کہ عالمی منڈیوں میں دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستانی زرعی سائنسدانوں کو بھی زیادہ جھاڑ والے نت نئے بیج متعارف کروانے چاہئیں، ایکسپورٹرز کاکہنا تھا کہ ارض پاک کا چاول خوشبو اورذائقے کے حوالے سے دنیا بھر میں مقبول ہے ،موجودہ حکمرانوں کو ایکسپورٹ دوست پالیسیاں بنانی چاہئیں اور بینکوں کی شرح سود میں کمی کرنی چاہئے تاکہ وطن عزیز میں بند ہوتی ہوئی 70 فیصد رائس انڈسٹری کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے










