سال2018 میں گوجرانوالہ ڈویژن کے 16محکمہ جات میں کرپشن ،بد عنوانی اور لوٹ مار کے 265 سکینڈل پکڑے گئے محکمہ مال کے افسران ،پٹواریوں ،گرداور ،قانونگو ،تحصیلدار ،نائب تحصیلدار سمیت دیگر ملازمین کی کرپشن کے 65 سکینڈل سامنے آئے جس کے باعث محکمہ نمبر ون قرار پایا جبکہ مختلف محکمہ جات کے پرائیویٹ ایجنٹس ،ٹاؤٹ مافیا اور جعلی بلڈنگ انسپکٹروں کے خلاف بھی 87 مقدمات درج ہوئے جن میں 78 کو حوالات میں بند کیا گیا اسی طرح محکمہ بلدیات 39 مقدمات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا پنجاب پولیس اور محکمہ تعلیم میں18,18 کیسز پکڑے گئے جو کرپشن کے حوالے سے برابر رہے
رواں سال کے دوران 177 افسران اور ملازمین کے خلاف بد عنوانی ثابت ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا جبکہ64 کرپٹ ملازمین رنگے ہاتھوں رشوت لیتے پکڑے گئے اور21 اشتہاری قرار دیئے گئے محکمہ مال کے 65 سکینڈلز میں 39افراد گرفتار ہوئے 21 رنگے ہاتھوں پکڑے گئے 4 ملزمان اشتہاری قرار دیئے گئے جبکہ2 عدالتی مفرور ہیں اسی طرح بلدیاتی اداروں میں 39 کیسز میں 19 افسران وملازمین پر کرپشن ثابت ہوئی اور20 رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تین گرفتار کئے گئے
پنجاب پولیس کے 18 کیسز میں 10 تفتیشی افسروں اور محرر ان کے خلاف کرپشن ثابت ہوئی اور5 کو رنگے ہاتھوں گرفتا ر کیا گیا 4 اشتہاری قرار دیئے گئے ایجوکیشن کے بھی18 کیسز میں 11 افسران کرپٹ نکلے 5 کو رنگے ہاتھوں گرفتار اور3 اشتہاری ملزم قرار دیئے گئے محکمہ اکاؤنٹس کے 2 افسران کی بد عنوانی ثابت ہوئی محکمہ جنگلات کے 8 کرپٹ افسران پکڑے گئے ہیلتھ کے 2 ،ایکسائز کے 6 افسران کرپٹ نکلے ،محکمہ ہائی وے کے 2 افسران کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 6 افسران گرفتار ہوئے اور پی ایچ اے کا ایک افسر گرفتار کیا گیا ۔










