سال رواں میں عدالتی حکم عدولیوں پر ضلع بھر کے تفتیشی افسران ، پولیس اہلکاروں اور گواہان کے 1لاکھ 11ہزار سے زائد وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ، عدالتی احکامات پر عمل درآمد پر اہلکاروں نے لاکھوں کا پٹرول خرچ کر ڈالا لیکن 55فیصد وارنٹس کی تعمیل کروائی گئی ۔ انسداد دہشت گردی ، سیشن اور جوڈیشل مجسٹریٹس سمیت ضلع بھر کی فوجداری عدالتوں میں زیر سماعت 24ہزار سے زائد مقدمات میں تفتیشی افسران اور اہلکاروں کوسنگین اور معمولی نوعیت کے مقدمات میں گواہی دینے کے لئے نوٹس اور قابل ضمانت وارنٹ گرفتار ی جاری کر کے طلب کیا گیا پیش نہ ہونے پرضلع بھر کی عدالتوں سے 1لاکھ 11سے زائد وارنٹ جاری کئے گئے لیکن با اثر پولیس گواہان کی بڑی تعداد پیش نہ ہو ئی ،وارنٹ گرفتاریوں پر کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک کے افسران اور اہلکاروں کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا، بار بار وارنٹ گرفتاریوں کے باوجود بھی پیش نہ ہونے پرجوڈیشل افسران نے سی پی او اور آر پی او کو مراسلے بھی بھجوائے اور محکمانہ کارروائی کا کہا لیکن پولیس افسران اور اہلکاروں کی روش درست نہیں ہوئی اور 45فیصد وارنٹس کی عدم تعمیل کے باعث ہزاروں کی تعداد میں مقدمات التواء کا شکار ہیں










