گوجرانوالہ۔اینٹی کرپشن کی کامونکی میں بڑی کاروائی

*محکمہ اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کی تحصیل کامونکی ، ضلع گوجرانوالہ میں بہت بڑی کاروائی!*

*کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی واگزاراور سڑک کے اوپر ناجائز طور پر قبضہ کرکے کمرشل دکانیں و پلازہ بنانے والے ، غیر قانونی قابضین کے خلاف مقدمہ درج!*

*ڈپٹی ڈائریکٹرہیڈکوارٹر اینٹی کرپشن گوجرانوالہ ، محمد قاسم کی زیر نگرانی ،ضلع کونسل گوجرانوالہ کے عملہ اور اسسٹنٹ کمشنر کامونکی کی ٹیم نے آپریشن کر کے 10کروڑ روپے کی کمرشل و بر لب واقع مین جی ٹی روڈ، سرکاری اراضی ،واگزار کر وا لی ۔*

*سڑک کو عوام الناس کی آمدو رفت کے لیے کھول دیا گیا اور ملوث ناجائز قابضین کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔*

*باوثوق ذرائع اور دوران انکوائری معلوم ہوا کہ ضلع کونسل گوجرانوالہ کے سابقہ سینیر افسران ، ندیم طاہر سندھو، ڈی او(ار) ڈسٹرکٹ کونسل گوجرانوالہ ، محمد یوسف مغل ، انکروچمنٹ انسپکٹر ، ڈسٹرکٹ کونسل گوجرانوالہ کی ملی بھگت اور پشت پناہی کی وجہ سے سرکاری اراضی کو واگزار کروانے کا آپریشن ، ماضی میں ناکام ہوتا رہا۔جس سے عوام الناس اور علاقہ مکینوںکو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ کیونکہ سڑک سادھوکی مین جی ٹی روڈ سے ٹریفک کا گزرنا محال ہو گیا ہوا تھا۔*

*اس ضمن میں علاقہ کے رہائشیوں نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب ، حسین اصغر کو درخواست دی تھی ۔ ان کی درخواست پرمحکمہ اینٹی کرپشن نے انکوائری مکمل کی اور ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کے تعاون سے ملزمان کے کردار کا تعین کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا۔*

تفصیل کے مطابق سادھوکی میں مین جی ٹی روڈ کے قریب مجوچک روڈ اور بیگ روڈ کے جنکشن پر غیر قانونی تعمیرات کر کے سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کیا گیا تھا ۔ جس میں ضلع کونسل کے سینیر افسران و اہلکاران کی ملی بھگت شامل تھی ۔
*دوران انکوائری و ملاحظہ ریکارڈ پا یا گیا کہ الزام علیہان ناجائز قبضہ مافیا۱۔ محمدسرور ولد سردار احمد۲،سخاوت علی ولد محمد اسلم۳۔محمد خالد ولد محمد یوسف۴،عطاللہ ولد غلام محمد۵۔پپو شاہ ولد حسن شاہ۶۔ملک اصغر ولد محمد انور۷۔عبدالستار ولد غلام حسین ۸۔محمد شہباز ولد فضل کریم ،۹ ۔ محمد اشرف نے محکمہ ڈسٹرکٹ کونسل کے سینیر افسران ۱۔ محمد یوسف مغل انکروچمنٹ انسپکٹر اور ۲۔ ندیم طاہر سندھو، ڈی او(ار) سے ملی بھگت کر کے کمرشل و برلب واقع مین جی ٹی روڈ رقبہ تعدادی 7کنال 8مرلے سرکاری اراضی قبضہ کرنے پر گنہگار ثابت ہوئے۔ جن کے خلاف مجاز اتھارٹی نے مقدمہ درج رجسٹر کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔جبکہ دیگر ملوث سینیر افسران کے کردار کے تعین کی اجازت بھی دے دی گئی۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں