اوپن اے آئی نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ 4 کروڑ سے زائد افراد چیٹ جی پی ٹی کو طبی تفصیلات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے ایک نیا ہیلتھ ٹول متعارف کرایا گیا ہے جسے چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ کا نام دیا گیا ہے۔
ویسے تو چیٹ جی پی ٹی سے براہ راست میں صحت سے متعلق سوالات پوچھے جاسکتے ہیں مگر اب آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ میں اس کے لیے ایک سیکشن مختص کر دیا گیا ہے۔
یہ سیکشن صحت سے متعلق گفتگو کے لیے ہی ڈیزائن کیا گیا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کا اہم ترین فیچر آپ کے میڈیکل ریکارڈز اور ویل نیس ایپس سے منسلک ہونا ہے، جس کو مدنظر رکھ کر اس کی جانب سے جواب دیا جاتا ہے۔
یعنی چیٹ جی پی ٹی کا جواب زیادہ کارآمد ہوتا ہے یا آپ اس سے طبی ٹیسٹ کے نتائج کو سمجھ سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق صارف کے پاس مکمل اختیار ہوگا کہ اے آئی چیٹ بوٹ کو ریکارڈز تک کتنی رسائی دی جائے۔
اگر آپ کسی ایپ کو چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ سے منسلک کرتے ہیں تو کمپنی کی جانب سے بتایا جائے گا کہ کونسا ڈیٹا تھرڈ پارٹی سے اکٹھا کیا جائے گا۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ وہ 60 ممالک سے تعلق رکھنے والے 260 سے زائد ڈاکٹروں اور درجنوں طبی ماہرین کے ساتھ ملکر چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ کے جوابات کو بہتر بنائے گی۔
اوپن اے آئی نے مزید بتایا کہ اس سیکشن کا مقصد لوگوں کو معاونت فراہم کرنا ہے، ڈاکٹروں کا متبادل بننا نہیں، ہم تشخیص یا علاج نہیں کرنا چاہتے، بس ہم روزمرہ کے سوالات کا جواب دے کر لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
یہ سیکشن چیٹ جی پی ٹی ایپ میں بائیں جانب مین مینیو میں موجود ہے۔
کمپنی کے مطابق ابھی یہ فیچر تمام صارفین کو دستیاب نہیں اور اس تک رسائی کے لیے ویٹ لسٹ کا حصہ بننا ہوگا۔
البتہ مستقبل قریب میں چیٹ جی پی ٹی کے تمام صارفین اسے استعمال کرسکیں گے۔










