ہوٹل ریزرویشن منسوخ نہ ہونے پر خاتون نے پانی کھول دیا، کرائے سے 280 گنا زیادہ رقم ادا کرنے پر مجبور

اگر آپ کسی ہوٹل میں کمرہ بک کروائیں اور پھر اسے منسوخ کرنے کی درخواست کریں جسے مسترد کر دیا جائے تو پھر کیا ہوگا؟

چین میں ایک خاتون کے ساتھ جب ایسا ہوا تو اس نے غصے میں ایسا کام کیا کہ اسے اصل کرائے سے 280 گنا زیادہ رقم بھرنا پڑی۔

چین کے صوبہ ہینان کے سدرن آئی لینڈ کے ایک ہوٹل نے 28 اکتوبر کو پولیس سے رابطہ کیا۔

ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے پولیس کو کہا گیا کہ ایک مہمان خاتون نے ایک کمرے میں پانی کھول کر سیلاب جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

اس خاتون (اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے آن لائن ایک رات قیام کے لیے کمرہ بک کرایا تھا جس کا کرایہ 108 یوآن تھا۔

وہ رات گئے ہوٹل پہنچی اور پھر آدھے گھنٹے بعد بکنگ منسوخ کرنے کی درخواست کی تاکہ مکمل رقم واپس مل سکے۔

خاتون نے جواز پیش کیا کہ اس نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔

ہوٹل کے منیجر شیاؤنگ کے مطابق پالیسی کے تحت جب کوئی مہمان چیک ان کر لیتا ہے تو پھر ریزرویشن کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہوتا، مگر خاتون نے اپنا اصرار جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کمرے کا معیار اچھا نہیں۔

ہوٹل کے عملے نے اسے زیادہ بہتر کمرے مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی مگر خاتون نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

خاتون نے پولیس سے بھی رابطہ کیا اور مقامی حکومت کی ہاٹ لائن پر شکایت درج کرائی۔

پولیس کا انتظار کرتے ہوئے خاتون نے ہوٹل کے کمرے کے واش بیسن اور شاور کے نلکے کھول کر کمرے میں پانی بہانا شروع کر دیا۔

اس نے بستر کی چادر کو شاور روم میں پھینکا اور اس پر شاور جیل انڈیل دیا۔

عملے کو اس کا علم اس وقت ہوا جب دوسری منزل پر واقع کمرے سے پانی لابی تک پہنچا۔

ہوٹل منیجر نے بتایا کہ نلکے سے پانی کا اخراج رات 2 بجے سے علی الصبح تک ہوتا رہا اور کمرے میں بہت زیادہ پانی بھر گیا جبکہ دیواروں اور فرش کو نقصان پہنچا۔

ہوٹل کے تخمینے کے مطابق خاتون کی حرکت سے 20 ہزار یوآن کا نقصان پہنچا، جس پر پولیس کو طلب کیا گیا۔

پولیس نے خاتون سے بات کی جس نے تسلیم کیا کہ اس نے ایسا کیا اور وہ ہوٹل کے نقصان کی تلافی کے لیے لگ بھگ 30 ہزار یوآن ادا کرنے کے لیے تیار ہوگئی۔

چینی قوانین کے تحت جو افراد دانستہ طور پر کسی جگہ کو نقصان پہنچاتے ہیں، انہیں قید یا جرمانے جیسی سزاؤں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تو خاتون نے قید سے بچنے کے لیے ہوٹل کے کرائے سے کئی سو گنا زیادہ رقم ادا کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں