مظلوم لاڈلی اولادیں

عموماً خاندانی تقریبات میں اور دیگر عوامی مقامات پر، اکثر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ، والدین کی موجودگی میں انکے چھوٹے بچے مسلسل بھاگتے دوڑتے ، شور مچاتے اور دیگر بدتمیزانہ حرکات و سکنات کرتے ہوئے دوسروں کے لئیے پریشانی کا باعث بنے رہتے ہیں ۔ لیکن ان کے والدین انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کرتے۔ بعض ضدی بچے کسی چیز کو پانے کے لئے زمین پہ لیٹ کر باقاعدہ ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے مسلسل چیخ و پکار جاری رکھتے ہیں اور والدین بجائے ڈانٹنے کے انہیں بہلا پھسلا کر الٹا انکی بلائیں لینا شروع کر دیتے ہیں ۔
ایسا نہیں ہے کہ ایسے کسی موقع پر یا تقریب میں موجود تمام افراد کے سبھی بچے شور شرابے کے حوالے سے ایک جیسا ہی منظر پیش کرتے ہیں ، بعض چھوٹے بچے انتہائی مہذبانہ انداز و اطوار اپنائے ہوئے دوسروں سے پیار سمیٹتے بھی نظر آتے ہیں ۔
اس فرق کی بنیادی وجہ والدین کا اپنے بچوں کی پرورش کے سلسلے میں اپنایا جانے والا رویہ ہوتا ہے ۔ جو جتنا حقیقت پسندانہ ہوتا ہے ، نتائج اسکے اسی قدر شاندار نکلتے ہیں۔ حقیقت شناس والدین اپنی اولاد کی تربیت کرنے میں معاشرے میں پائے جانے والے زمینی حقائق کو بالکل بھی نظر انداز نہیں کرتے ،اور اپنے بچے بچیوں کو روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے پہلوؤں سے نہ صرف آگاہ کرتے ہیں، بلکہ کسی بھی غیر متوقع ناگوار صورتحال کا سامنا کرنے اور اس سے نمٹنے کے لئیے بھی تیار کرتے ہیں ۔ غلط حرکت پہ بچوں کی اصلاح نہ کرنا اور انکے ہر معیوب فعل کو ان کی معصومیت اور بچپنا قرار دے دینا، دراصل اپنی اولاد سے دشمنی نبھانے کے مترادف ہوتا ہے ۔ عموماً جذباتی اور بے پرواہ ممتا کی چھاؤں میں پلتی اولاد پہ اندھے پدرانہ پیار کا اظہار ، ان والدین کی طرف سے دیکھنے میں آتا ہے جن کی صرف ایک بیٹے یا ایک ہی بیٹی کی شکل میں اکلوتی اولاد ہوتی ہے ۔ ایسی ہی انوکھی لاڈلی یا انوکھا لاڈلا جب کھیلن کو چاند مانگتا ہے تو ماں باپ بجائے اسے یہ سمجھانے کے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے ، اس کے سامنے چاند کو حاصل کرنے کی پلاننگ کرنا شروع کر دیتے ہیں ،مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ ہماری اکلوتی اولاد کا دل نہ ٹوٹے ، اور خود چاہے اسکی فرمائشیں پوری کرتے کرتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں ، والدین اس کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔ گویا ایسے والدین سچ اور جھوٹ کو مکس کر کے اپنی اکلوتی اولاد کی دلجوئی کو ہی فرضِ عین سمجھ کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی اولاد کی شخصیت کو مجروح کر رہے ہوتے ہیں ۔ اکلوتی اولاد کے ناز نخرے اگرچہ خصوصی طور پر اٹھائے جاتے ہیں مگر زیادہ بچوں کے والدین کا رویہ بھی اکثر اسی صورتحال سے ملتا جلتا ہوتا ہے ۔ بچوں کے بستے ، جوتے ، کمرے اور انکے ہوم ورک تک والدین اپنی زمہ داری سمجھتے ہوئے سنبھال لیتے ہیں۔ بڑے ہونے پر جس کا منطقی نتیجہ طفیلی بچوں کی صورت میں سامنے آتا ہے جنہیں انگریزی میں پیمپرڈ بےبیز کہا جاتا ہے، جو بڑے ہو کر عملی زندگی میں بھی اپنا بوجھ دوسروں پہ ڈالنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ۔ پرورش ہی ایسی ہوئی ہوتی ہے کہ بچے کے ذھن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ خدمت کروانے کے لئیے پیدا کیا گیا ہے ، ناکہ خدمت کرنے کے لئیے، چناچہ ایسی ذھنی کیفیت میں مبتلا بچے نرگسیت کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے بہتر اور برتر ہیں ، مگر اکثر و بیشتر ایسے بچوں کا بلآخر نتیجہ انکے غیر متوازن ، ضدی ، حقیقت نا آشنا ، زود رنج ، کمزور فیصلہ ساز ، غیر زمہ دار ، تنہائی پسند اور دوسروں کی اعانت کے سوالی اور محتاج شہریوں کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ اولادِ نرینہ کو بچیوں پہ ترجیح دینے والے اکثریتی گھرانوں میں دو تین بچیوں کی پیدائش کے بعد جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو ایسے بچے کو، ماں باپ ، بہنیں اور دیگر قریبی رشتے دار خواتین ، آنکھوں کا تارا اور پوری کائنات میں اکیلا راج دلارا ثابت کرنے پر سارا زور لگا دیتی ہیں ۔ ایسے بچے کو مذکورہ رشتوں کی شکل میں گویا خادمین کی فوج ظفر موج ہر لمحہ دستیاب ہوتی ہے ،جو اس کے ایک اشارے پہ آسمان سے ستارے تک اتار کر اس کے قدموں میں بچھانے کو ہر لمحہ تیار رہتی ہے ۔
جس کا بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا بچہ ایک ایسے مائنڈ سیٹ کے ساتھ پروان چڑھتا ہے کہ گویا اس کا وجود اسکے ماں باپ اور پورے خاندان کے لئیے ایک بہت بڑی نعمت اور قدرت کا احسانِ عظیم ہے اور اگر وہ پیدا نہ ہوا ہوتا تو شاید قیامت بپا ہو چکی ہوتی ۔ اس کا ایسا سوچنا بالکل بر حق ہوتا ہے کیونکہ اسے ہر معاملے میں اسکے ماں باپ پروٹوکول ہی اتنا دے دیتے ہیں ، اور وہ ہر حال میں سراہا ہی اتنا جاتا ہے کہ، نفسیاتی طور پر وہ خود کو ایک ناگزیر اور انوکھی شخصیت تصور کر کے ،” مستند ہے میرا فرمایا ہوا ” کہ مصداق ، ہر حال میں صرف اپنی ہی بالادستی کو جائز سمجھتا ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس معاشرتی زمینی حقائق اس کے ایسے مائنڈ سیٹ کو جب کسی خاطر میں نہیں لاتے تو نتیجتاً ایسی شخصیت کا خود ساختہ بھرم جب بتدریج زمین بوس ہونا شروع ہوتا ہے، تو حقائق کی وہ دنیا جو والدین نے اس کی آنکھوں سے جان بوجھ کر اوجھل رکھی ہوتی ہے ، جب اپنی تمام تر تلخیوں اور حشر سامانیوں کیساتھ سامنے آتی ہے، تو ایسی مظلوم اولاد عموماً حالات کا سامنا کرنے سے کتراتی اور معاملات کو اپنی خواہشات کے برعکس جاتا دیکھ کر خوف و اضطراب میں فرار حاصل کر کے تنہائی پسند ہو جاتی ہے ۔ گویا عمومی معاشرتی چال سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتی ۔
بے جا لاڈ پیار کے سائے میں پرورش پانے والی اولادوں کے والدین دراصل اپنے طرز عمل سے بظاہر رحمدلی اور شفقت کا مظہر بنے ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت ایسا رحم و کرم بچے اور بچیوں کے لئیے ایک ایسے ظلم کی حیثیت رکھتا ہے جس کا خمیازہ سب سے پہلے بچوں اور انکے خاندانوں سمیت پورے معاشرے کو بھی بھگتنا پڑتا ہے ۔ یاد رہے کہ جو آج بچے ہیں کل جوان بھی ہونگے اور انہی کے وجود سے معاشرے کی تشکیل اور تکمیل ممکن ہو پائے گی۔ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ بے جا لاڈ پیار کی بنیاد پہ کی گئی تربیت ناقص ہوتی ہے اور ایسی فضا میں پرورش پانے والی اولاد معاشرے کے عمومی مزاج سے کبھی بھی ہم آہنگ نہیں ہو پاتی اور اپنے لئیے اسی مخصوص فضا کا تقاضا کرتی رہتی ہے جس میں ان کے والدین نے اسے سانس لینے کا عادی بنایا ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے مختلف ممالک میں کئے جانے والے ایک سے زائد تحقیقی مطالعات اور انکے سائنسی تجزیے یعنی میٹا اینالسز سے درج بالا باتوں کی تصدیق بھی ہو چکی ہے اور اسکے تدارک کے لئیے حل بھی پیش کئیے جا چکے ہیں ۔ جن میں سر فہرست وہ چند کام جو والدین کو بچوں کی پرورش کے سلسلے میں اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لینے چاہئیں وہ کچھ یوں ہیں کہ سب سے پہلے بچوں کی ہر بات پہ آمین کہنے کی عادت کو ترک کرنا ہو گا ، بچوں کی بعض خواہشوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کر کے ان میں ” نا ” سننے کی عادت بھی ڈالنا ہو گی ، جاپانی بچوں کی طرح انکو بھی اپنے جوتے خود پالش کرنے کیساتھ اپنے کمرے کی صفائی اور مل بانٹ کر کھانے پینے کی مسلسل مشق کروا کر ان میں اسکی عادت ڈالنا ہو گی، اگر وہ کوئی چیز خراب کرتے ہیں توھمیشہ اس کو ٹھیک بھی انہی سے کروانے کی کوشش کرنا ہو گی ، انقلابِ فرانس کے تناظر میں مشہورِ زمانہ جملہ کہ ، روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں ، کے برعکس روٹی نہیں ملتی تو اس کے حصول کی کوشش کی طرف بچوں کو راغب کرنا ہو گا ، اور اگر کوشش رائیگاں جاتی ہے تو ان میں بھوک کی شدت کو صبر اور شکر کیساتھ برداشت کرنے کی عادت ڈالنا ہو گی ، انہیں سلیقے اور طریقے سے سمجھانا ہو گا کہ انہیں سرخاب کے پر بالکل بھی نہیں لگے ہوئے اور وہ خود کو کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہ سمجھیں ، اور ایک عام انسان کی طرح دوسروں سے برتاؤ کریں ، حتی المقدور اپنے کام خود کریں اور زندگی کے چیلنجوں کو اپنی قوتِ ارادی سے فتح کریں اور اگر کسی معاملے میں شکست ہوتی ہے تو اس سے بھی لطف اندوز ہونا سیکھیں ۔ بہرحال ایک صرف ہڈ حرامی ،نالائقی، سستی و کاہلی اور نرگسیت پہ موقوف نہیں ، اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس بات کا اندازہ بخاری و مسلم میں درج اس روائیت کے مفہوم سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ، ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنا
لیتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں