ہر سانس کے ساتھ دنیا کا ہر فرد کافی مقدار میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پھیپھڑوں کے اندر کھینچ لیتا ہے۔
یہ انکشاف ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا۔
جرنل پلوس ون میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک تخمینے کے مطابق اوسطاً ہر فرد روزانہ پلاسٹک کے 68 ہزار ننھے ذرات سانس کے ذریعے جسم کے اندر پہنچاتا ہے۔
ایسے ہر ذرے کا حجم ایک سے 10 مائیکرو میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔
یہ ننھے ذرات انسانی صحت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ آسانی سے پورے جسم میں جاسکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ سانس کے ذریعے جسم میں جانے والے ان ذرات سے صحت پر مرتب اثرات توقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں، مگر اس حوالے سے ابھی یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔
محققین کے مطابق ہم پلاسٹک کے ننھے ذرات کی تعداد جان کر کافی حیران ہوئے، یہ سابقہ تخمینے سے کہیں زیادہ تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان ذرات کا حجم بہت چھوٹا ہوتا ہے اور ٹشوز میں منتقل ہوسکتے ہیں جو کہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ دوران خون میں داخل ہوکر نظام تنفس کی گہرائی میں جاسکتے ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ چار دیواری کے اندر ان ذرات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ بند جگہوں پر پلاسٹک کی بہت زیادہ مقدار کی موجودگی ہے جبکہ اکثر ہوا کی نکاسی کا نظام بھی ناقص ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں متعدد اپارٹمنٹس کے کمروں کی فضا کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ گاڑیوں کے کیبن کا جائزہ بھی لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ ہر انسانی سرگرمی سے یہ ذرات فضا میں خارج ہوتے ہیں اور کسی اپارٹمنٹ میں ان کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہر سرگرمی جیسے چلنے، بیٹھنے، کھڑے ہونے یا کھڑکی کھولنے سب کے دوران یہ ذرات فضا میں خارج ہوتے ہیں۔
گاڑیوں کے کیبن میں ان ذرات کی مقدار اپارٹمنٹس کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فضا میں موجود تمام ذرات سے بچنا ناممکن ہے مگر آپ سانس کے ذریعے کم تعداد نگلنے کو ممکن بنا سکتے ہیں، جس کے لیے گھروں میں لکڑی، لوہے اور قدرتی فائبر یا میٹریل سے بنی اشیا کا استعمال کرنا چاہیے۔
ائیر فلٹر سسٹمز بھی ان ذرات کو گھر سے خارج کرنے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں ان ذرات کو انسانی جسم کے متعدد حصوں جیسے مادر رحم، دماغ، دل، گردوں اور دیگر میں پایا گیا تھا۔
خوراک اور پانی سے ان کی زیادہ مقدار جسم کے اندر جاتی ہے مگر اس نئی تحقیق میں فضائی آلودگی کو بھی بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔
تحقیق کے مطابق دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ملائیکرو پلاسٹک سے پھیپھڑوں کا دائمی ورم لاحق ہوسکتا ہے جو پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار بھی بنا سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ باہری فضا کے مقابلے چار دیواری کی فضا میں ان ذرات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ قابل تشویش ہے کیونکہ لوگ دن بھر کا 90 فیصد وقت چار دیواری کے اندر گزارتے ہیں۔










