جلد بازی میں بغیر کسی ٹھوس دلیل ، ثبوت اور معقول وجہ کے ،کسی کے بھی بارے میں بری سوچ اور منفی خیالات رکھتے ہوئے ،صرف مفروضوں کی بنیاد پر غلط رائے کے قائم کر لینے کو بدگمانی کہتے ہیں ۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ دشمنوں سے زیادہ دوستوں کو مار دیتی ہے ۔ گویا یہ دوستیوں کی قاتل ہے ۔دشمنی میں تو نفرت ، انتقام اور کدورت جیسے مہلک عناصر پہلے ہی گمان و خیالات کو اپنے وجود سے آلودہ کئیے ہوتے ہیں، اور باقی بچتی ہے صرف دوستی ، جو اکثر بدگمانی کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے ۔ اس کی زد میں آ کر ہمسائیگی ، رشتے داری ،بھائی چارگی اور نظریاتی ھم آہنگی جیسی دیگر مثبت اقدار سب کی سب ملیا میٹ ہو جاتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان اپنے ساتھ در پیش کسی معاملے کے متلعق سرے سے کچھ سوچتا ہی نہیں، یعنی گمان نہیں کرتا ، سو فیصد کرتا ہے ، مگر غور طلب بات صرف یہ ہوتی ہے کہ آیا وہ گمان مثبت ہے یا منفی ۔ اچھے گمان کو حُسنِ ظن اور غلط کو سوئے ظن بھی کہا جاتا ہے ۔ بدگمانی، یعنی منفی اور بری سوچ ، جسے سماجی بیماری سے بھی منسوب کیا جاتا ہے ، وہ اُس بندھن کو توڑ دیتی ہے ، جس نے معاشرے میں افراد کو ایک دوسرے کیساتھ باندھا ہوتا ہے ، اور اس کا نتیجہ اکثر طلاقوں ، لڑائی جھگڑوں ، رنجشوں ، کدورتوں اور نفرتوں جیسی دیگر اخلاقی گراوٹوں کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ میرے بار بار کال کرنے کے باوجود وہ بات کیوں نہیں کر رہا ، میں اس سے ملنے اسکے گھر گیا، لیکن وہ مجھے ملا کیوں نہیں ، جب بھی کال کرتا ہوں نمبر مصروف ہی ملتا ہے، پتہ نہیں کس سے باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر سبھی اچانک خاموش کیوں ہو گئے تھے ، دوسرے لوگ شاید مجھے پسند نہیں کرتے ، میرے ساتھ ھمیشہ برا ہی ہوتا ہے ، سب میرے خلاف ہیں ، وغیرہ وغیرہ ، گویا ایسی اور اس سے ملتی جلتی دیگر کیفیات اور معاشرتی صورت احوال میں ایک کمزور حواس والے انسان کے دل و دماغ میں بدگمانی ایک زھر کی طرح بہت جلد سرایت کر جاتی ہے ۔
اگرچہ کوئی بھی انسان اچانک ہی بدگمان نہیں بن جاتا ، اور کسی کے بدگمان بننے میں اسکے نفسیاتی، سماجی تجرباتی اور دیگر عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ بدگمانی عموماً غلط فہمی کے بطن سے جنم لیتی ہے۔
زیادہ تر غربت و افلاس اور غیر تعلیم یافتہ ہونے جیسی وجوہات کی بنا پر ، ماں اور باپ کے درمیان میں پائی جانے والی ناچاقی ، اور اسکے نتیجے میں ہونے والے گھریلو جھگڑوں کا شکار بچے ، خود اعتمادی کی کمی ، خود ترحمی ، انجانے خوف کے شکار ، احساسِ کمتری ، ذھنی دباؤ ، ڈپریشن اور چیزوں کے تجزیے میں توازن برقرار نہ رکھنے والے ، بہت جلد بدگمانی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ وہ ہر معاملے میں شک و شبہات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح سماجی سطح پہ خاص طور پر سوشل میڈیا کے اس تیز ترین دور میں افواہوں ، ادھوری سچائیوں ، سازشوں اور منفی تبصروں سے بنی فضا بھی ، کسی کو بدگمان بنانےمیں اپنا خطرناک کردار ادا کرتی ہے ۔
لوگوں کے ذاتی تجربات جیسے کسی سے پیار محبت اور اعتماد کے نتائج ،جب انکی توقع کے خلاف بار بار بے وفائی اور دھوکے کی صورت میں ہی سامنے آتے ہیں، تو پھر ایسے لوگ دوسرے لوگوں پہ بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اور انکے ذھنوں میں معاشرے کے دیگر افراد کے متعلق یہ تاثر پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگ عموماً مخلص نہیں ہوتے ، چناچہ ایسے لوگوں کے رویوں اور انکی سوچوں میں بدگمانی کی لہریں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو موقع بے موقع طلاطم خیز ہو کر معاشرتی معاملات میں بگاڑ کا باعث بنتی ہیں ۔ دیگر الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ بدگمانی انسانی رویوں میں ایک ایسا منفی رحجان ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے ۔ بدگمان انسان معاشرتی بگاڑ کا ارتکاب تو بعد میں کرتا ہے ، مگر ایک صرف اپنے عدم تحفظ اور منفی سوچ کی وجہ سے، سب سے پہلے اسے خود اپنا ہی جسمانی اور روحانی دونوں طرح کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ لوگ ایسی شخصیت سے دوری اختیار کرنے میں ہی بھلائی سمجھتے ہیں ، گویا بدگمانی کا مسلسل شکار فرد سب رشتے ناطوں کے ہونے کے باوجود بلآخر اکلاپے اور کئی نفسیاتی عارضوں کا شکار ہو کر اپنی صحت کا بھی بیڑا غرق کر لیتا ہے۔
دینی تناظر میں دیکھا جائے تو اللّٰہ کریم نے قرآن پاک کی سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمایا ہے کہ ، ” اے ایمان والو ، زیادہ گمان سے بچو ،بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ” ۔
گویا کوشش اور مشق کر کے وہم کی حد تک بہت زیادہ سوچنے والی عادت، یعنی اوور تھنکنگ سے چھٹکارا حاصل کر لینا از حد ضروری ہے ۔
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب صحیح بخاری میں درج ایک روایت کا مفہوم ہے کہ ، ” بدگمانی سے بچو ، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے “. صوفیائے کرام بدگمانی کو ” قلب کی بیماری ” کہتے ہیں جو انسان کو معرفتِ الٰہی سے دور کر دیتی ہے ۔ درویش فلسفی واصف علی واصف مرحوم کہتے تھے کہ ، ” پریشانی حالات سے نہیں،
خیالات سے پیدا ہوتی ہے “. مشاہدے میں بھی یہی آیا ہے کہ حسنِ ظن کو ملحوظ رکھنے والوں کے تمام معاملات احسن طریقے سے انجام پذیر ہو جاتے ہیں ، جبکہ سوئے ظن رکھنے والے اپنا تمام وقت قیاسی ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے پریشانی میں ہی گزارتے ہیں ۔ بہرکیف بدگمانی جیسی اس خطرناک بیماری سے نجات پانے کے لئیے ضروری ہے کہ دوسروں کی مجبوریوں کا نہ صرف یہ کہ احساس کیا جائے ، بلکہ قرآن و حدیث کا مطالعہ ، تقدیر پہ یقین ، نماز ، صبر ، برداشت ، ورزش ، مثبت مصروفیت اور چیزوں کو نظر انداز کرنے کی مشق کرنے کیساتھ خود کو حقیقت شناس بھی بنایا جائے ، کیونکہ حقیقت میں اکثر وہ سب کچھ بالکل بھی نہیں ہو رہا ہوتا، جس کو سوچ سوچ کر انسان ہلکان ہوا جا رہا ہوتا ہے ،بقول حفیظ ہوشیارپوری مرحوم ، حفیظ اُن سے میں جتنا بدگماں ہوں ،
وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہونگے ۔ القصہ ،بدگمانی کے زھر کے تریاق کے لئیے خاص طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مذکورہ بالا باتوں پہ عمل کر کے انسان اُس پچھتاوے، ندامت اور پشیمانی سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے ، جو کہ اصل حقیقت کے سامنے آنے پر پیدا ہوتی ہے ، اور حقیقت عموماً اپنی پرورش کردہ اور پروان شدہ بدگمانی کے بالکل الٹ ہوتی ہے ۔ بدگمانی کی کیفیت سے جلد از جلد چھٹکارا پا لینا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے ، وگرنہ ، پچھتاوے اور شک کے عفریت سے ڈسے ہوئے ایک بدگمان انسان کی زندگی ، عبدالمنان راز کاشمیری مرحوم کے اس شعر کی عملی تفسیر بن کے رہ جاتی ہے کہ ،
کیا اِس سے بڑی اور سزا اُس کو ملی ہے ،
دن رات جو احساس کے دوزخ میں پڑا ہے ۔
( اے آر بابر)










