سماجی بخیل

بعض اوقات کسی مخصوص پس منظر میں کہی گئی کسی کی مثبت اور مستند بات ، دل ودماغ کے بند دریچے کھول کر فکر و نظر کو نئی جہتوں سے ہمکنار کر دیتی ہے ۔ جس سے عمل و آگہی کی نئی راہیں وجود میں آ کر معاشرتی زندگی کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
کراچی میں مقیم کہنہ مشق اداریہ نویس ، ایڈیٹر ، شاعر اور بہترین کالم نویس کا اعزاز رکھنے والے یعقوب غزنوی صاحب سے یاد اللّٰہ تو تب سے تھی جب سے انہوں نے محمد صلاح الدین شہید کے ہفت روزہ تکبیر کی ادارت کی زمہ داری سنبھالی تھی ۔ گوجرانوالہ میں جسکے نمائندے کی حیثیت سے شہر کے شب وروز کا احوال ہفتہ وار ڈائری کی صورت میں بھیجنا میرے معمول کا حصہ تھا ۔ اسی دوران میں کچھ ایسا ہوا کہ چند دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں صحافیانہ سرگرمیوں سے بتدریج دور ہوتا چلا گیا ۔
گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار ،
لیکن تیرے خیال سے غافل نہیں رہا ،
چند مہینے ایسے ہی گزر گئے اور کچھ بھی لکھنے کو دل نہ چاہا ، مگر پھر بھی ایک کسک تھی جو اس بات کا احساس دلاتی تھی کہ میں اس حوالے سے سستی و کاہلی کیساتھ غیر زمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کر رہا ہوں ۔ پھر ایک دن یعقوب غزنوی بھائی کو کال ملائی اور اپنی سستی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو اپنی دلی کیفیت سے بھی آگاہ کر دیا ۔ پوری بات سننے کے بعد وہ یوں گویا ہوئے کہ ” آپ کو اگر اللّٰہ کریم نے لکھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے اور آپ اسے معاشرے کی اصلاح اور اسکی فلاح و بہبود کے لئیے استعمال میں نہیں لا رہے ، تو آپ بخیلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور گناہ گار ہیں ، بخیل نہ بنیں اور دوبارہ لکھنا شروع کریں “.
کوئی نہ لکھنے سے بھی بخیل کہلوایا جا سکتا ہے ، اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہ تھا ۔ جب سے ہوش سنبھالا یہی سنتے پڑھتے آئے تھے کہ بخیل وہ ہوتا ہے جو صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود روپیہ پیسہ روکے رکھتا ہے اور خود سمیت دیگر مستحق افراد پہ خرچ کرنے سے کتراتا ہے ۔ مستحق افراد کا دائرہ کار خاصہ وسیع ہے جس میں اہل و عیال ، رشتے دار ، ھمسائے ، دوست احباب اور خاص طور پر معاشرے کے مفلوک الحال لوگ آتے ہیں ۔
گویا جو شخص مالی آسودگی کے باوجود خود سمیت مذکورہ بالا مستحق افراد پہ اپنے مال و زر سے خرچ کر کے انکو در پیش محرومیوں سے نجات دلانے میں ممد ومددگار ثابت نہیں ہوتا ، بخیل کہلاتا ہے ۔ لیکن یعقوب بھائی کی بات نے جو اس رائج اور عمومی تعریف سے قدرے مختلف تھی ، اس کے متعلق مزید غور و خوض کرنے پہ مجبور کر دیا ، جس سے بخیل اور بخیلی کی اقسام سے آگاہی حاصل ہوئی ۔ حاصلِ مطالعہ یہ تھا کہ بخیل، جو کہ بخل سے ہے اس کا مطلب روکے رکھنا یا خود سمیت کسی کو کچھ دینے سے گریز کرنا ہوتا ہے ، اس کا تعلق دل کی تنگی سے ہوتا ہے اور یہ صرف مال و دولت کو روکے رکھنے تک محدود نہیں ہوتا ، بلکہ اسکا اظہار ذہنی ، جذباتی اور سماجی سطح پر بھی ہوتا ہے ۔
چناچہ کہا جا سکتا ہے کہ بخیل ہونا ایک ایسا انسانی رویہ ہے جس کے نتیجے میں کوئی انسان اپنی دولت و ثروت کے علاوہ اللّٰہ کریم کی ودیعت کردہ خود میں موجود دیگر صلاحیتوں سے، کسی دوسرے انسان کو نوازنے میں خود کو روکے رکھتا ہے اور اس حوالے سے دوسروں کے لئے حد درجے تساہل پسندی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بخیلی اور کنجوسی میں بھی ایک باریک سا فرق ہوتا ہے ۔ کنجوس انسان وہ ہوتا ہے جو ، صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود عادتاً کسی دوسرے پہ تو کیا خود اپنی ذات پہ بھی خرچ کرنے پہ مائل نہیں ہو پاتا ، جو پیسہ خرچ کرنے میں حد درجے کی احتیاط برتتا ہے ، اور جس کا واحد مقصدِ حیات مال و زر کو جوڑتے رہنا اور سب کچھ ہونے کے باوجود مفلسوں اور بھکاریوں جیسی زندگی گزار کر بلآخر اپنا سب کچھ دوسروں کے لئے چھوڑ کر وفات پا جانا ہی ہوتا ہے ۔ کنجوسی کا دائرہ کار عموماً صرف مال و زر تک ہی محدود سمجھا جاتا ہے ، لیکن بخیلی کا مفہوم اس سے خاصہ بڑا ہے ۔ جس کا عملی اظہار ہر وہ شخص کرتا ہے جو مال و زر ، وقت ، جذبات ، احساسات ، تعلقات ، وسائل یا علم رکھنے کے باوجود ان کو دوسروں میں بانٹنے میں بخل سے کام لیتا ہے ۔ گویا خود بھی ان چیزوں سے حقیقی طور پر محظوظ نہیں ہو پاتا اور دوسروں کو بھی ان سے محروم رکھتا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ مالدار کنجوس، ملنسار ، ھمدرد اور دوسروں کے دکھ سُکھ میں اپنا وقت صرف کرنے والا ایک سادہ سا انسان ہو، لیکن بخیل اِن اوصاف سے بھی فارغ ہوتا ہے ، جس کی طبیعت میں بخیلی ہو وہ اسکا اظہار خود کو پیش آنے والے تقریباً ہر معاشرتی معاملے میں بھی ضرور کرتا ہے ۔
ہمارے دینِ اسلام میں بخیلی کو سخت ناپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے ، اور مالی بخل کے علاؤہ جذباتی اور سماجی بخل سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ مال و دولت کے بخیل کے متلعق سورۃ آل عمران میں اللّٰہ کریم کا فرمان ہے کہ ، ” جن لوگوں کو اللّٰہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لئیے اچھی ہے ۔ نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے ، جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں ، وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا ۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللّٰہ ہی کے لئیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللّٰہ اس سے باخبر ہے ” ۔
اسی طرح ایک روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،
” اللّٰہ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو، اور اللّٰہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل یہ ہے کہ تم کسی مسلمان کے دل میں خوشی ڈال دو، اس کی کوئی پریشانی دور کر دو، اس کا قرض ادا کر دو، یا اس کی بھوک مٹا دو۔ اور اگر میں کسی بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چلوں، تو یہ میرے لیے اس مسجد (مسجدِ نبوی) میں ایک مہینے کے اعتکاف سے زیادہ محبوب ہے” ۔
چناچہ اس حوالے سے ہر وہ شخص سماجی بخیل ہونے کے زمرے میں آتا ہے جو قدرت ہونے کے باوجود لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں پس و پیش سے کام لیتا ہے ، کسی دکھیارے کا دکھ بانٹنے کی کوشش نہیں کرتا ، کسی کی کامیابی پر تعریف کے چند الفاظ بھی ادا نہیں کرتا ، مظلوم کا ساتھ نہیں دیتا ، حاصل کردہ تعلیم کو فروغ نہیں دیتا کہ کسی کا بھلا نہ ہو جائے ، کسی کو دُکھ درد میں مبتلا دیکھ کر اپنا کندھا پیش نہیں کرتا ، کسی روتے ہوئے کے آنسو پونچھ کر اسے سینے سے نہیں لگاتا ، کسی کے جائز کام کی تکمیل میں اپنے تعلقات اور وسائل کو استعمال میں نہیں لاتا ، مہمان بننے میں خوشی محسوس کرتا ہے اور نہ ہی میزبان بننے میں ، اپنے مال و اسباب کا رُخ معاشرے کے سدھار کی طرف نہیں کرتا ، کسی تقریب، دعوت ، ملاقات یا مشاورتی نشست سے پہلو تہی کرتا ہے ، خود کسی کے قریب ہوتا ہے اور نہ کسی کو خود کے قریب آنے دیتا ہے ۔
نتیجتاً ایک سماجی بخیل اپنے لئیے اور اپنی آل اولاد کے لئیے بھی معاشرتی دوریاں پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ ایسے شخص سے لوگ دور ہی رہنا پسند کرتے ہیں جو صرف اپنی ذات کے متلعق ہی سوچتا ہو ۔ سماجی بخیل کو معاشرہ خود غرض اور مفاد پرست جیسے القابات سے نوازتا ہے ۔ ایسے لوگ عموماً تنہائی کا شکار ہو کر اپنا اخلاقی ، روحانی اور بعض اوقات جسمانی نقصان بھی کروا بیٹھتے ہیں ۔ معاشرتی زندگی میں ان لوگوں کو غیر معتبر گردانا جاتا ہے ۔
اعتدال ، سخاوت اور حقوق العباد اسلامی معاشرت کا خاصہ ہیں جن سے یہ محروم ہوتے ہیں ۔ بخل نہ صرف یہ کہ ایک ناپسندیدہ رویہ ہے بلکہ اسلام میں اسے ایک روحانی بیماری بھی قرار دیا گیا ہے ۔
لہٰذا اس بیماری میں مبتلا کسی بیمار شخص سے کسی بھی صحت مند معاشرتی سرگرمی کی امید نہیں کی جا سکتی ۔ بہرکیف فتنوں کے اِس دورِ دوراں میں کم از کم اس سماجی بخیلی کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ختم کر کے ہی صحیح معنوں میں فرد اور معاشرے کے اس حقیقی اور فلاحی رشتے کو برقرار رکھا جا سکتا ہے جس میں سچی خوشی اور ابدی سکون پنہاں ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے ہم سب کو بھی اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم بھی کہیں سماجی بخیلی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ، اور اگر خدا نخواستہ ہو رہے ہیں تو خود پہ اور معاشرے پہ احسان کرتے ہوئے ہمیں اسے فی الفور ترک کر دینا چاہئیے ۔ اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے کئی کتابوں کے مصنف اور میڈیا اسٹڈیز کے استادِ محترم ڈاکٹر ارشد علی نے جامعہ گجرات کے کلاس روم میں ایک دن یہ فرما کر گویا کوزے میں دریا بند کردیا تھا کہ ، بخیلی کو ترک کر کے جب تک ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی شمع روشن نہیں کرے گا ، تب تک معاشرے پہ چھائے بے حسی کے اندھیرے دور نہیں ہو پائیں گے ، اور ایک صرف سماجی بخل جیسی بیماری سے ، معاشرے کو بلآخر تنہائی ،خود غرضی ، نفسانفسی ، جہالت اور مستقل پریشانی کے عذاب جھیلنے پڑیں گے ۔
آئیے خود احتسابی کے آئینے میں خود کا عمیق جائزہ لیں کہ کہیں ہم بھی سماجی بخیل تو نہیں ، اگر نہیں ہیں تو شُکر کریں ، اور اگر ہیں تو فکر کریں ، اپنی اور اپنی نسلوں کیساتھ اپنے معاشرے کی ، جہاں ہم نے رہنا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں