آکسفورڈ سے ڈگری لینے کے باوجود ملازمت سے محروم شخص فوڈ ڈلیوری کرنے پر مجبور

دنیا کی نامور یونیورسٹی آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے والا چینی شہری ڈگری لینے کے باوجود ملازمت سے محروم ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ایک چینی شہری ڈنگ یوانزاؤ نے دنیا کی بہترین جامعات میں شمار ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس نے بھی ایک اچھی ملازمت کا خواب دیکھا جو پورا نہ ہوسکا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چینی شہری آکسفورڈ سے ڈگری حاصل کرنے کے باوجود ملازمت سے محروم ہے، ڈنگ کے پاس اعلیٰ عالمی یونیورسٹیوں کی بہت سی ڈگریاں ہیں، انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بائیو ڈائیورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، پیکنگ یونیورسٹی سے انرجی انجینئرنگ میں ماسٹرز اور سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے بائیولوجی میں پی ایچ ڈی کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈنگ نے نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ پروجیکٹ پر کام کیا لیکن ان کا معاہدہ مارچ میں ختم ہوگیا جس کے بعد انہوں نے کئی جگہ ملازمت کیلئے درخواست دی اور انٹرویوز بھی دیے لیکن ناکامی پر کھانے کی ترسیل کا کام شروع کردیا۔

چینی شہری دن میں 10 گھنٹے کام کرتا ہے اور ایک ہفتے میں 700 سنگاپورین ڈالر ز کماتا ہے۔

اس حوالے سے انٹرویو دیتے ہوئے ڈنگ نے کہا کہ یہ ایک مستحکم نوکری ہے، میں اس آمدنی سے اپنے خاندان کی کفالت کرسکتا ہوں، اگر آپ محنت کریں گے تو آپ اچھی کمائی کرسکتے ہیں، یہ کوئی بری نوکری نہیں ہے، کھانے کی ترسیل کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ میں جسمانی طورپر متحرک رہتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں